سانحہ گل پلازا، تحقیقات مکمل ہونے تک کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا: ڈپٹی کمشنر ساؤتھ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا ہے کہ گل پلازا میں ریکوری اور سرچنگ کا کام آج مکمل کر لیں گے، ملبا اٹھانے کا کام چلتا رہے گا۔
گل پلازا کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ کل رات بھی کچھ انسانی باقیات ملی ہیں، جنہیں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے اسپتال منتقل کردیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ واقعے کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے، جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، اس وقت تک کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
سانحہ گل پلازاکے 5 روز کے دوران لاگئی لاشوں اور اعضا ءکی شناخت کا عمل تیز کردیا گیا۔
دوسری جانب ریسکیو آپریشن کے دوران گل پلازا کی تیسری منزل سے انسانی باقیات ملی ہیں، باقیات ڈی این اے کے لیے سول اسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق اب تک 71 لاشیں اور انسانی باقیات اسپتال لائی جاچکی ہیں۔
پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سُمیّہ طارق کا کہنا ہے کہ 22 جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 6 لاشیں قابلِ شناخت تھیں جبکہ 15 لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ سے ممکن ہوئی، ایک لاش کی شناخت قومی شناختی کارڈ سے ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گل پلازا کی شناخت نے کہا
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔