سانحہ گل پلازہ: نویں روز بھی ملبے سے انسانی باقیات برآمد، ڈی این اے سے 15 افراد کی شناخت
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
سانحہ گل پلازہ میں ریسکیو اور سرچ آپریشن نویں روز میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ملبہ ہٹانے کے دوران تیسرے فلور سے مزید انسانی باقیات برآمد ہوئی ہیں۔ ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ عمارت کے مختلف حصوں میں تاحال تلاش کا عمل جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ آتشزدگی کی ایف آئی آر درج، واقعہ ’غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ‘ قرار
میڈیا رپورٹ کے مطابق برآمد ہونے والی انسانی باقیات کو شناخت کے عمل کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی غرض سے سول اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سُمعیہ طارق نے بتایا ہے کہ اب تک مجموعی طور پر 71 لاشیں اور انسانی اعضا اسپتال لائے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق 22 جاں بحق افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے، جن میں سے 6 لاشیں ظاہری شناخت کے قابل تھیں جبکہ 15 افراد کی شناخت ڈی این اے رپورٹس کے ذریعے ممکن ہوئی۔
‘Outcome of negligence and carelessness’: Karachi police register FIR of Gul Plaza inferno
Read More at: https://t.
— Raasta786 (@AirMshlRkalim) January 25, 2026
ڈاکٹر سُمعیہ طارق کے مطابق ایک متاثرہ شخص کی شناخت قومی شناختی کارڈ کی مدد سے کی گئی ہے، جب کہ دیگر لاشوں کی شناخت کے لیے لواحقین کے نمونے حاصل کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ سرکاری مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ مقدمہ نبی بخش تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے، جس میں غفلت اور لاپروائی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ کا ’قبرستان‘ جہاں 1200 دکانوں کا ملبہ جمع کیا جا رہا ہے
پولیس کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے تعین کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گل پلازہ گل پلازہ باقیات گل پلازہ ہلاکتیں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گل پلازہ گل پلازہ باقیات گل پلازہ ہلاکتیں کے مطابق کی شناخت گل پلازہ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔