برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر کی تنقید کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں برطانوی فوجیوں سے متعلق اپنے بیان میں تبدیلی کر دی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں برطانوی فوجیوں کو عظیم اور بہادر قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کے فوجی ہمیشہ امریکا کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ افغانستان میں جنگ کے دوران 457 برطانوی فوجی مارے گئے یا شدید زخمی ہوئے، اور وہ دنیا کے بہترین جنگجوؤں میں شامل تھے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا اور برطانیہ کے درمیان فوجی تعلق ایسا مضبوط بندھن ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔

مزید پڑھیں

منی سوٹا میں ہنگامہ، ٹرمپ نے میئر اور گورنر پر بغاوت بھڑکانے کا الزام لگا دیا

چین سے تجارتی معاہدہ کیا تو اشیا پر 100 فیصد ٹیرف لگے گا، ٹرمپ کی کینیڈا کو دھمکی

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا برطانوی فوجیوں سے محبت کرتا ہے اور آئندہ بھی یہ احترام برقرار رہے گا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ برطانوی فوجیوں کا کوئی ثانی نہیں، سوائے امریکا کے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے دوران برطانوی فوجی فرنٹ لائن پر موجود نہیں تھے۔

اس بیان پر برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے توہین آمیز قرار دیا اور امریکی صدر سے معافی کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنا مؤقف تبدیل کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: برطانوی فوجیوں برطانوی فوجی

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی