امریکی ریاست منی سوٹا میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے ایک اور شہری ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
امریکی ریاست منی سوٹا میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے ایک اور شہری ہلاک WhatsAppFacebookTwitter 0 25 January, 2026 سب نیوز
منیاپولس: (آئی پی ایس) امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں فیڈرل ایجنٹ کی گولی سے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت 37 سالہ الیکس جیفری پریٹی کے نام سے ہوئی ہے جو کہ امریکی شہری اور آئی سی یو نرس تھا، مقتول الیکس جیفری پریٹی انتہائی زخمی امریکی فوجیوں کی دیکھ بھال کیا کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی حکام ایکواڈور کے شہری کو گرفتار کرنے علاقے میں پہنچے تھے، امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ مقتول الیکس کے پاس بندوق اور 2 میگزین تھے، غیر مسلح کرنے کے دوران الیکس نے مزاحمت کی جس دوران ایک اہلکار نے اسے گولی مار دی۔
واقعے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی، اس سے قبل بھی 7 جنوری کو بھی منیا پولس میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے ایک خاتون شہری ہلاک ہو گئی تھی۔
منی سوٹا کے گورنر ٹم والز نے ٹرمپ انتظامیہ سے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی ایجنٹ کی فائرنگ کے ایک اور ہولناک واقعے پر وائٹ ہاؤس سے بات کی ہے، صدر ٹرمپ فوراً امیگریشن آپریشن ختم کریں اور ہزاروں پُرتشدد، غیر تربیت یافتہ امیگریشن افسران کو منی سوٹا سے واپس بلائیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منی سوٹا کے میئر اور گورنر پر بغاوت کو ہوا دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ منیاپولس میں شہری کی ہلاکت پر مقامی قیادت کا رد عمل خطرناک ہے، منی سوٹا کے میئر اور گورنر کی بیان بازی بغاوت کو ہوا دے رہی ہے۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی منی سوٹا میں بغاوت ایکٹ نافذ کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرابوظہبی: امریکی ثالثی میں 2 روزہ روس یوکرین مذاکرات بغیر کسی پیشرفت کے اختتام پذیر ابوظہبی: امریکی ثالثی میں 2 روزہ روس یوکرین مذاکرات بغیر کسی پیشرفت کے اختتام پذیر وادی تیراہ میں شدید برف باری، پاک فوج کی فوری اور مؤثر ریلیف سرگرمیاں جاری جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی ڈرون حملے میں دو بچوں سمیت 3 فلسطینی شہید ایران پر ممکنہ حملہ، مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج تعینات، تہران میں ہائی الرٹ چین سے تجارتی معاہدہ کیا تو اشیا پر 100 فیصد ٹیرف لگے گا، ٹرمپ کی کینیڈا کو دھمکی امریکی حملے کا خطرہ ، سپریم لیڈر خامنہ ای خصوصی زیر زمین پناہ گاہ منتقلCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ ایک اور
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔