امریکا نے نیٹو سے متعلق بیان پر برطانیہ کی تنقید مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے نیٹو سے متعلق بیان پر برطانیہ کی جانب سے امریکا پر کی جانے والی تنقید کو مسترد کر دیا۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ درست کہتے ہیں، نیٹو کیلئے امریکا نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں، امریکا نے نیٹو کیلئے دیگر ممالک سے زیادہ کردار ادا کیا۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں نیٹو کے اتحادی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے دوران نیٹو کے غیر امریکی فوجی محاذِ جنگ سے کچھ پیچھے رہے اور وہ فرنٹ لائن پر نہیں تھے۔
امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر سٹارمر نے افغانستان میں برطانیہ سمیت نیٹو کے کردار پر امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کو مضحکہ خیز، خطرناک اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔
کنزرویٹو لیڈر کیمی بیڈینوک نے بھی امریکی صدر کے بیان کو’’فضول بکواس‘‘ قرار دیا، جبکہ امریکا میں مقیم برطانیہ کے شہزادہ ہیری کا بھی کہنا تھا کہ افغانستان میں دی گئی نیٹو افواج کی قربانیوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل امریکی صدر
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔