اسلام ٹائمز: یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ غزہ کا مسئلہ کسی ایک بورڈ، ایک اجلاس یا ایک چارٹر سے حل نہیں ہوگا۔ یہ ایک طویل، پیچیدہ اور صبر آزما عمل ہے، جس کے لیے مستقل مزاجی، دیانت داری اور عالمی عزم درکار ہے۔ اگر عالمی برادری واقعی غزہ میں امن، انصاف اور انسانی وقار کی بحالی چاہتی ہے تو اسے فلسطینی عوام کو محض امداد کے مستحق نہیں بلکہ ایک آزاد اور باوقار قوم کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر غزہ ایک بار پھر عالمی ضمیر کی ناکامی کی علامت بن کر رہ جائے گا اور تاریخ یہ سوال پوچھتی رہے گی کہ جب موقع تھا تو دنیا نے کیا کیا۔ تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
پاکستان میں ٹرمپ کے تشکیل کردہ غزہ امن بورڈ کے بارے میں پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں کے علاوہ سیاسی تجزیہ نگار بھی کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ پاکستان کی اس بورڈ میں شمولیت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل رہا ہے، جنہوں نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت، آزاد ریاست اور القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے کے اصولی مؤقف سے کبھی انحراف نہیں کیا۔ عالمی دباؤ، بدلتے ہوئے علاقائی اتحاد اور وقتی مفادات کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کی ہے۔ ماضی میں کئی عالمی امن منصوبے اس لیے ناکام ہوئے کہ ان میں متاثرہ فریق کی خواہشات اور زمینی حقائق کو ثانوی حیثیت دی گئی۔ اگر غزہ امن بورڈ واقعی مؤثر ثابت ہونا چاہتا ہے تو اسے فلسطینی قیادت اور عوام کی آواز کو مرکز میں رکھنا ہوگا۔ فرانس، برطانیہ اور جرمنی جیسے اہم یورپی ممالک کا اس بورڈ میں شامل ہونے سے انکار کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
ایک سینیئر پاکستانی سفارت کار نے ٹرمپ کے غزہ پلان میں شامل ہونے کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔ سینیئر پاکستانی سفارت کار اور اقوام متحدہ، امریکہ اور برطانیہ میں سابق سفیر محترمہ ملیحہ لودھی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ اقدام اور غزہ بورڈ میں شامل ہونے کے پاکستانی حکومت کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے اور کئی اہم نکات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے، جو واشنگٹن کے ساتھ صف بندی کرنے کے سیاسی اخراجات پر خاطر خواہ توجہ دیئے بغیر ہے اور اس سے پاکستان کی علاقائی اور اسلامی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے، خاص طور پر غزہ جنگ کے انتہائی حساس ماحول میں پاکستان کا اقدام کئی سوال پیدا کر رہا ہے۔ محترمہ ملیحہ لودھی کے خیال میں، اس طرح کے اقدام سے ٹرمپ کا مقصد ان اقدامات کے لیے بین الاقوامی کوریج حاصل کرنا ہے، جو اصل میں یکطرفہ طور پر ڈیزائن کیے گئے تھے۔ یعنی اس فیصلے میں مختلف ممالک غیر ارادی طور پر "منظوری کی ایک "مہر" بلکہ ٹرمپ کے آلہ کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ملیحہ لودھی کے بقول اس اقدام سے فلسطینیوں کے ساتھ براہ راست تصادم کا خطرہ موجود ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس فورس اور بورڈ کے مشن میں حماس جیسے گروپوں کا جبری تخفیف اسلحہ شامل ہے تو رکن ممالک بشمول پاکستان فلسطینیوں کے ساتھ براہ راست تنازعہ میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ جو فلسطینی کاز کی حمایت میں پاکستان کے روایتی اور اعلان کردہ موقف سے مکمل طور پر متصادم ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ساتھ بیٹھنا جہاں اخلاقی سوالات کو جنم دیتا ہے، وہاں کثیرالجہتی عالمی نظام کو کمزور کرنے کے عمل میں شامل ہونے اور اقوام متحدہ کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ ملیحہ لودھی کو خدشہ ہے کہ یہ ڈھانچہ مؤثر طریقے سے اقوام متحدہ کا ایک متوازی ادارہ بن جائے گا۔ ایک ایسا ادارہ، جو صرف غزہ تک ہی محدود نہیں رہے گا، بلکہ وسیع تر اور خطرناک اختیارات بھی حاصل کرسکتا ہے۔
بہرحال یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ غزہ کا مسئلہ کسی ایک بورڈ، ایک اجلاس یا ایک چارٹر سے حل نہیں ہوگا۔ یہ ایک طویل، پیچیدہ اور صبر آزما عمل ہے، جس کے لیے مستقل مزاجی، دیانت داری اور عالمی عزم درکار ہے۔ اگر عالمی برادری واقعی غزہ میں امن، انصاف اور انسانی وقار کی بحالی چاہتی ہے تو اسے فلسطینی عوام کو محض امداد کے مستحق نہیں بلکہ ایک آزاد اور باوقار قوم کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر غزہ ایک بار پھر عالمی ضمیر کی ناکامی کی علامت بن کر رہ جائے گا اور تاریخ یہ سوال پوچھتی رہے گی کہ جب موقع تھا تو دنیا نے کیا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں شامل ہونے اقوام متحدہ تسلیم کرنا کے ساتھ ٹرمپ کے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔