بہاولپور میں انسانیت سوز واقعہ، زمیندار نے فصل میں گھسنے پر بھینس کی ٹانگیں کاٹ دیں
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
بہاولپور:پنجاب کے شہر بہاولپور میں انتہائی افسوسناک اور انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں تھانا نوشہرہ جدید کی حدود میں ایک زمیندار نے اپنی فصل میں داخل ہونے پر ایک بھینس کو بے رحمی کا نشانہ بناتے ہوئے کلہاڑی کے وار سے اس کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ واقعے نے نہ صرف علاقے کے لوگوں کو شدید غم و غصے میں مبتلا کر دیا بلکہ معاشرے میں جانوروں کے ساتھ ہونے والے ظلم پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب زمیندار کی فصل میں ایک بھینس داخل ہو گئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق زمیندار طیش میں آ گیا اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے بے زبان جانور پر تشدد کیا، جس کے نتیجے میں بھینس شدید زخمی ہو گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جانور پر ظلم کے اس واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں، تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ شہریوں نے جانوروں پر اس قسم کے مظالم کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو عبرتناک سزا دی جائے، فصل کو نقصان پہنچنے کی صورت میں قانون موجود ہے لیکن کسی بھی صورت میں کسی بے زبان جانور کو اس طرح تشدد کا نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زخمی بھینس کو ویٹرنری ڈاکٹرز کی نگرانی میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی قسم کے تشدد یا غیر قانونی عمل کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔