ابوظہبی میں روس یوکرین مذاکرات ناکام، دو روزہ بات چیت بغیر نتیجے کے ختم
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
ابوظہبی میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والے دو روزہ روس اور یوکرین کے مذاکرات بغیر کسی بڑی پیش رفت کے اختتام پذیر ہو گئے۔ مذاکرات میں روسی اور یوکرینی حکام کے درمیان براہِ راست رابطہ ہوا، تاہم کسی حتمی نتیجے پر اتفاق نہ ہو سکا۔
اماراتی حکومت کے ترجمان کے مطابق بات چیت مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی، جس میں امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے امن فریم ورک کے مختلف نکات پر غور کیا گیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ فریقین نے سنجیدگی کے ساتھ مؤقف پیش کیے۔
روسی وزارتِ خارجہ اور یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے مذاکرات کے آئندہ دور میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ صدر زیلنسکی کے مطابق روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ابوظبی میں تعمیری گفتگو ہوئی، اور اگر مثبت پیش رفت جاری رہی تو ایک ہفتے کے اندر مزید مذاکرات متوقع ہیں۔
اماراتی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے بھی ان سہ فریقی مذاکرات کو مفید قرار دیا۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ دو روزہ مذاکرات کے دوران فریقین کے درمیان باہمی احترام دیکھا گیا اور دونوں ممالک تنازع کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور اگلے ہفتے اتوار کو ابوظبی میں ہوگا، جس میں یوکرین امن معاہدے کو حتمی مرحلے کی جانب لے جانے پر توجہ دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اور یوکرین
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔