ٹیکس نیٹ کی توسیع کے بغیر معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی، چیئرمین ایف بی آر
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد لنگڑیال نے کہا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں توسیع کے بغیر معیشت کا استحکام ممکن نہیں کیونکہ کچھ لوگ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ بڑی تعداد ٹیکس سے بچنے کی کوشش کرتی ہے۔
الحمرا میں پینل ڈسکشن کے دوران راشد لنگڑیال نے بتایا کہ ملک کے 4.
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس جی ڈی پی کا تناسب خطے کے دیگر ممالک سے کم ہے، جس کی وجہ محدود ٹیکس نیٹ اور کم کمپلائنس ریٹ ہے، ٹیکس نیٹ بڑھنے سے ہی شرح میں کمی ممکن ہے، اور بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے پر نہیں پڑے گا۔ مثال کے طور پر 1.76 لاکھ ڈاکٹروں میں سے صرف 55 ہزار نے ریٹرن جمع کرائے، جن میں سے 39 ہزار نے سالانہ آمدن 20 لاکھ روپے سے کم ظاہر کی۔
راشد لنگڑیال نے کہا کہ ایف بی آر محصولات میں اضافے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں شوگر ملز کی نگرانی اور موثر چیک اینڈ بیلنس سے اربوں روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوا۔ انہوں نے کرپشن کے الزام میں متعدد افسران کی گرفتاری کا ذکر بھی کیا، جس سے ادارے کے احتساب کے عمل میں سنجیدگی کا پتہ چلتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔