ٹیکس نیٹ میں توسیع کے بغیر معیشت کا استحکام ممکن نہیں، چیئرمین ایف بی آر
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں توسیع کے بغیر معیشت کا استحکام ممکن نہیں، کچھ لوگ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ بڑی تعداد ٹیکس سے بچنے کی کوشش کرتی ہے۔
الحمرا میں پینل ڈسکشن کے دوران گفتگو میں راشد لنگڑیال نے کہا کہ ملک کے 4.2 کروڑ گھروں میں سات فیصد میں ایئر کنڈیشنر لگے ہیں، یہ گھرانے ٹیکس نیٹ میں شامل ہونا چاہئیں، گزشتہ مالی سال 49 لاکھ افراد نے ٹیکس ریٹرن جمع کرائی، رواں سال تعداد بڑھ کر 59 لاکھ ہو گئی، ان میں 3.
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس جی ڈی پی کا تناسب خطے کے دیگر ممالک سے کم ہے، جس کی وجہ محدود ٹیکس نیٹ اور کمپلائنس ریٹ کم ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ نہ بڑھنے کا بوجھ چند مخصوص طبقات پر پڑے گا، زیادہ بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ہے، وہ آمدن چھپا نہیں سکتے، خطے میں پاکستان کے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح نسبتا زیادہ ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ٹیکس نیٹ بڑھنے سے ہی شرح میں کمی ممکن ہے، 1.76 لاکھ ڈاکٹروں میں صرف 55 ہزار نے ریٹرن جمع کرائی، ان میں 39 ہزار نے سالانہ آمدن 20 لاکھ روپے سے کم ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ 100 روپے کے محصولات میں صرف 38 روپے وفاقی حکومت کو ملتے ہیں جس کی وجہ سے وفاق کے مالی وسائل محدود ہیں، ایکسپورٹرز کےلئے الگ الگ ٹیکس ریٹس نہیں ہونے چاہئیں، اگر کمپنی غلط ٹیکس ریٹرن جمع کرواتی ہے تو اس کا آڈٹ ہو گا۔
راشد لنگڑیال نے کہا کہ ایف بی آر محصولات میں اضافے کیلئے ادارہ جاتی اصلاحات کر رہا، شوگر ملز کی نگرانی اور موثر چیک اینڈ بیلنس سے اربوں روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوا۔
ایف بی آر میں کرپشن پر انہوں نے کہا کہ اس الزام میں متعدد افسران گرفتار کیے جو ادارہ کی احتساب کے عمل میں سنجیدگی کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکس نظام کو منصفانہ، ٹیکس نیٹ کی توسیع اور کمپلائنس بہتر بنانے کےلئے اصلاحات جاری رکھے گا تاکہ بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے پر نہ رہے۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاکہ وہ وزیر اعظم کے ساتھ امریکہ جا رہے تھے اور وہاں سے واپس آتے ہی چھ سے سات ارب روپے کے ٹیکس ختم کرنے تھے مگر راستے میں ہی مجھے وزارت سے ہٹا دیا گیا۔
مفتاح اسماعیل نے تسلیم کیا کہ انہوں نے کچھ غلطیاں کی تھیں اور اگر موقع دیا جاتا تو انہیں درست کر دیتے، اب یہ ذمہ داری موجودہ حکام کی ہے کہ وہ اصلاحات کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کیلیے ملک کیلئے وصولیاں کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ ملک کو ان وسائل کے ذریعے ہی چلایاجاسکتا ہے۔
سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے شہری مصدق ذوالقرنین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ ٹیکس وصولی میں مشکلات ہیں ، بیوروکریٹ ،سیاستدان اور تنخواہ دار سب ٹیکس دیتے ہیں لیکن ایک دوسرے پر تنقید بھی کرتے ہیں، سب کو ٹیکس کی ادائیگی کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ میری نظر میں ٹیکس چوری ایسے ہی ہے جیسے زکوۃ چوری ہوتی ہے کیونکہ ٹیکس وصولی سے ملک کافائدہ ہے یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ فائلر امیر ہے یا عام آدمی، سب کو ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
مصدق ذوالقرنین نے کہا کہ ایف بی آر میں افسران کو سب معلومات ہوتی ہیں لیکن ان سے پوچھاجائے کہ کسی نے آج تک کسی چیف کمشنر نے کوئی نوٹس بھیجوایا ہو یا اس نے ریٹرن فائل کی ہو اگر ایسا کیاجائے تو بہت ٹیکس وصولی میں بہتری آجائے۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل نے کہا کہ ایف بی آر انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار ٹیکس نیٹ کہ ٹیکس
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔