شدید سردی نے امریکا کو جکڑ لیا، 17 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ، ہزاروں پروازیں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
امریکا میں شدید نوعیت کے برفانی طوفان کے باعث 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہوگئے جبکہ ہزاروں فضائی پروازیں منسوخ کردی گئیں۔
حکام کے مطابق یہ طوفان اتوار سے مزید شدت اختیار کرسکتا ہے اور مشرقی ریاستوں میں نظامِ زندگی مفلوج ہونے کا خدشہ ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہفتے کے روز طوفان سے پہلے ہی 4 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی گئیں، جبکہ اتوار کے لیے 9 ہزار سے زیادہ پروازیں منسوخ ہونے کی اطلاع ہے۔ برف باری، ژالہ باری، منجمد بارش اور شدید سرد ہوائیں امریکا کے مشرقی دو تہائی حصے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طوفان کو “تاریخی” قرار دیتے ہوئے جنوبی کیرولائنا، ورجینیا، ٹینیسی، جارجیا، نارتھ کیرولائنا سمیت 11 ریاستوں میں وفاقی ہنگامی حالت نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے عوام سے محفوظ رہنے اور شدید سردی سے بچاؤ کی اپیل کی ہے۔
محکمۂ داخلی سلامتی کے مطابق 17 ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں موسمی ایمرجنسی نافذ ہے۔ بجلی کی بندش سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاستوں میں لوزیانا، مسیسیپی، ٹیکساس، ٹینیسی اور نیو میکسیکو شامل ہیں۔
محکمۂ توانائی نے ٹیکساس میں بجلی کی قلت سے بچنے کے لیے ہنگامی اختیارات جاری کر دیے ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں بھی بجلی کے نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
قومی موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جنوب مشرقی امریکا میں برف اور برفانی بارش کے باعث شدید اور بعض علاقوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ حکام نے شہریوں کو خوراک، ایندھن اور ضروری اشیاء ذخیرہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پروازیں منسوخ ریاستوں میں
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔