خود کو انسانی حقوق کی علمبردار قرار دینے والی وکیل ایمان زینب مزاری ایک بار پھر اپنے سخت اور متنازع بیانات کے باعث خبروں کی زینت بن گئی ہیں۔

مختلف عوامی تقاریر میں انہوں نے ریاستی اداروں، خصوصاً افواجِ پاکستان اور انٹیلی جنس اداروں کے خلاف نہایت اشتعال انگیز زبان استعمال کی، جس پر ہمیشہ سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا، تاہم ریاستی اداروں نے ہمیشہ تحمل سے کام لیا۔

مزید پڑھیں: ایمان مزاری کی گرفتاری، آزادیٔ اظہار نہیں بلکہ ریاست مخالف بیانیے کے خلاف قانونی کارروائی قرار

ایمان مزاری نے اپنی تقاریر میں اعلیٰ فوجی قیادت کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیاکہ ملک میں بدامنی، جبری گمشدگیوں اور سیاسی عدم استحکام کے ذمہ دار ریاستی ادارے ہیں۔

ماضی میں وہ دعویٰ کر چکی ہیں کہ جن افراد کو لاپتا کیا جاتا ہے، ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو فوج یا خفیہ اداروں پر تنقید کرتے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

ان کے بقول، پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ آج بھی نوآبادیاتی قوانین کے تحت چل رہا ہے اور اظہارِ رائے کی آزادی کو دانستہ طور پر دبایا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اظہار رائے کی جتنی آزادی ہے اتنی کسی دوسرے ملک میں نہیں۔

ایک خطاب کے دوران ایمان مزاری نے نہ صرف فوجی قیادت کے خلاف سخت زبان استعمال کی بلکہ انہیں ’قابض ادارہ‘ قرار دیا۔

ان کے اس بیان پر سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ مضبوط فوج کسی بھی ملک کے دفاع کے لیے ناگزیر ہے۔ ایمان مزاری اور ان جیسے دیگر لوگوں کو کم از کم معرکہ حق کے بعد عقل آ جانی چاہیے تھی جو نہیں آئی۔

ایمان مزاری نے اپنی تقاریر میں سول نافرمانی، احتجاجی تحریکوں اور ریاستی نظام کے بائیکاٹ کی بھی بات کی، جسے ناقدین نے کھلی اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری کے یہ بیانات نہ صرف ریاستی اداروں کے وقار کو مجروح کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں مزید انتشار اور کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ناقدین کے مطابق اختلافِ رائے اور تنقید جمہوری حق ضرور ہے، تاہم اس کے لیے شائستہ زبان اور آئینی دائرہ کار کی پابندی ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں: متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنا دی گئی

واضح رہے کہ ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر کو متنازع ٹوئٹس کیس میں گزشتہ روز مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے، جس کے بعد ان کے بیانات اور سرگرمیاں ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews انسانی حقوق کی علمبردار ایمان مزاری پروپیگنڈا ریاستی ادارے سزا متنازع ٹوئٹس کیس موضوع بحث وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انسانی حقوق کی علمبردار ایمان مزاری پروپیگنڈا ریاستی ادارے متنازع ٹوئٹس کیس وی نیوز ریاستی اداروں ایمان مزاری کے خلاف

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان