ایمان مزاری کی گرفتاری، آزادیٔ اظہار نہیں بلکہ ریاست مخالف بیانیے کے خلاف قانونی کارروائی قرار
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
ایمان مزاری کی گرفتاری کو محض ایک سیاسی ڈراما یا انسانی حقوق پر حملہ قرار دینا حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ یہ اقدام دراصل برسوں سے جاری ایک منظم اور دانستہ ریاست مخالف مہم کے نتیجے میں سامنے آیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کو مجرم اور مسلح شدت پسند گروہوں کو بالواسطہ طور پر مظلوم یا قابلِ ہمدردی بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔
یہ بھی پڑھیں:متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنا دی گئی
ذرائع کے مطابق ایک مخصوص مگر سرگرم طبقہ طویل عرصے سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ایسا بیانیہ پھیلا رہا تھا جو محض ریاستی پالیسیوں پر تنقید تک محدود نہیں، بلکہ ممنوعہ عسکری تنظیموں کے تشدد کو جواز فراہم کرنے یا اسے معمول کا عمل بنا کر پیش کرنے کی کوششوں پر مشتمل تھا۔ جیسے ہی قانون حرکت میں آیا، فوری طور پر اسے آزادیٔ اظہار اور انسانی حقوق کا مسئلہ بنا کر پیش کر دیا گیا۔
قانونی و سیکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اظہارِ رائے کی آزادی کا نہیں بلکہ تشدد کے جواز اور اس کی فکری معاونت کا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) جیسے گروہ سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ کالعدم دہشت گرد تنظیمیں ہیں، جو پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں، مزدوروں، اساتذہ اور عام شہریوں کے قتل میں ملوث رہی ہیں۔ بلوچستان سمیت ملک بھر میں ہزاروں خاندان ان حملوں کے باعث اپنے پیاروں کو کھو چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ان تنظیموں کو ’غلط فہمی کا شکار‘ یا ’غیر مؤثر‘ قرار دینا رائے نہیں بلکہ دہشتگردی کی اخلاقی اور فکری معاونت کے مترادف ہے۔ ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں طویل عرصے سے حکومتوں، اداروں اور پالیسیوں پر کھلی تنقید کی گنجائش موجود رہی ہے، تاہم اختلافِ رائے اور بغاوت کے درمیان ایک واضح اور ناقابلِ تردید حد فاصل موجود ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی سنجیدہ ملک اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اس کے شہری مسلح شدت پسند گروہوں کے لیے ڈیجیٹل ترجمان بنیں یا آن لائن پلیٹ فارمز کو تشدد اور بغاوت کے فروغ کے لیے استعمال کریں۔ ریاست کا مؤقف واضح ہے کہ قانون کا اطلاق ڈیجیٹل دنیا میں بھی اسی طرح ہوتا ہے جیسے زمینی حقائق میں۔
یہ بھی پڑھیں:راجا ناصر عباس کی ایمان مزاری کے کیس میں مداخلت پر سوالات اٹھنے لگے
ذرائع کے مطابق اس کارروائی کا مقصد آزادیٔ اظہار کا خاتمہ نہیں بلکہ اس تاثر کو ختم کرنا ہے کہ انتہا پسند بیانیے کی ترویج بغیر کسی انجام کے ممکن ہے۔ بحث و مباحثہ قابلِ قبول ہے، اختلافِ رائے صحت مند عمل ہے، مگر ان عناصر کا دفاع یا جواز فراہم کرنا جو پاکستانیوں کا خون بہاتے ہیں، کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
ریاستی مؤقف کے مطابق کوئی بھی شخص، چاہے وہ کتنا ہی بااثر، نمایاں یا محفوظ کیوں نہ سمجھا جائے، قانون سے بالاتر نہیں۔ یہ کارروائی آزادیٔ اظہار کا اختتام نہیں بلکہ ریاست مخالف اور شدت پسند بیانیے کے خلاف واضح حد بندی کا اعلان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی اظہار رائے ایمان مزاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا زادی اظہار رائے ایمان مزاری ایمان مزاری نہیں بلکہ کے مطابق
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔