مجھے نااہل کرانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج نافذ کرنا ممکن نہیں، اسی وجہ سے انہیں نااہل کرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: ایبٹ آباد، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے قافلے کو بلدیاتی نمائندوں نے روک لیا
مینگورہ میں پاکستان تحریکِ انصاف کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ خود وادی تیراہ جائیں گے اور وہاں کے عوام کے ساتھ جرگہ کریں گے۔
سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ صوبے کے عوام اپنے حقوق سے باخبر ہیں اور کسی بھی غیر جمہوری اقدام کو قبول نہیں کریں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 8 فروری کو عام انتخابات کے 2 سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں ہڑتال کی کال دی ہے اور اس کے لیے تیاریاں کی جارہی ہیں۔
دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ 8 فروری کو کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائےگی، تاہم اگر کوئی پرامن احتجاج کرتا ہے تو یہ ہر شہری کا حق ہے۔
وزیراعظم پاکستان کے مشیر رانا ثنااللہ نے تحریک انصاف کو بات چیت کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ ٹیبل پر بیٹھ کر مسائل کا حل نکالے۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کو افغانستان کا سفیر یا مستقل مندوب ہونا چاہیے، گورنر خیبرپختونخوا کی وزیراعلیٰ پر تنقید
حکومت کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا آئینی آپشن موجود ہے لیکن ہم اس کے باوجود اس طرف نہیں جانا چاہتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9 مئی حملہ کیس wenews سہیل آفریدی گورنر راج نااہلی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 9 مئی حملہ کیس سہیل ا فریدی گورنر راج نااہلی وزیراعلی خیبرپختونخوا وی نیوز سہیل ا فریدی
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔