ٹیکس نیٹ میں توسیع کے بغیر معیشت کا استحکام ممکن نہیں، چیئرمین ایف بی آر WhatsAppFacebookTwitter 0 25 January, 2026 سب نیوز

لاہور (آئی پی ایس )فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کے چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں توسیع کے بغیر معیشت کا استحکام ممکن نہیں، کچھ لوگ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ بڑی تعداد ٹیکس سے بچنے کی کوشش کرتی ہے۔الحمرا میں پینل ڈسکشن کے دوران گفتگو میں راشد لنگڑیال نے کہا کہ ملک کے 4 اعشاریہ2کروڑ گھروں میں سات فیصد میں ایئر کنڈیشنر لگے ہیں، یہ گھرانے ٹیکس نیٹ میں شامل ہونا چاہئیں، گزشتہ مالی سال 49 لاکھ افراد نے ٹیکس ریٹرن جمع کرائی، رواں سال تعداد بڑھ کر 59 لاکھ ہو گئی، ان میں 3 اعشاریہ20 لاکھ افراد نے ریٹرن میں ظاہر کیا کہ ان پر ٹیکس کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، جو سنجیدہ مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس جی ڈی پی کا تناسب خطے کے دیگر ممالک سے کم ہے، جس کی وجہ محدود ٹیکس نیٹ اور کمپلائنس ریٹ کم ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ نہ بڑھنے کا بوجھ چند مخصوص طبقات پر پڑے گا، زیادہ بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ہے، وہ آمدن چھپا نہیں سکتے، خطے میں پاکستان کے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح نسبتا زیادہ ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ٹیکس نیٹ بڑھنے سے ہی شرح میں کمی ممکن ہے، 1 اعشاریہ76 لاکھ ڈاکٹروں میں صرف 55 ہزار نے ریٹرن جمع کرائی، ان میں 39 ہزار نے سالانہ آمدن 20 لاکھ روپے سے کم ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ 100روپے کے محصولات میں صرف 38 روپے وفاقی حکومت کو ملتے ہیں جس کی وجہ سے وفاق کے مالی وسائل محدود ہیں، ایکسپورٹرز کیلئے الگ الگ ٹیکس ریٹس نہیں ہونے چاہئیں، اگر کمپنی غلط ٹیکس ریٹرن جمع کرواتی ہے تو اس کا آڈٹ ہو گا۔راشد لنگڑیال نے کہا کہ ایف بی آر محصولات میں اضافے کیلئے ادارہ جاتی اصلاحات کر رہا، شوگر ملز کی نگرانی اور موثر چیک اینڈ بیلنس سے اربوں روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوا۔ایف بی آر میں کرپشن پر انہوں نے کہا کہ اس الزام میں متعدد افسران گرفتار کیے جو ادارہ کی احتساب کے عمل میں سنجیدگی کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکس نظام کو منصفانہ، ٹیکس نیٹ کی توسیع اور کمپلائنس بہتر بنانے کیلئے اصلاحات جاری رکھے گا تاکہ بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے پر نہ رہے۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہاکہ وہ وزیر اعظم کے ساتھ امریکہ جا رہے تھے اور وہاں سے واپس آتے ہی چھ سے سات ارب روپے کے ٹیکس ختم کرنے تھے مگر راستے میں ہی مجھے وزارت سے ہٹا دیا گیا۔مفتاح اسماعیل نے تسلیم کیا کہ انہوں نے کچھ غلطیاں کی تھیں اور اگر موقع دیا جاتا تو انہیں درست کر دیتے، اب یہ ذمہ داری موجودہ حکام کی ہے کہ وہ اصلاحات کریں۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کیلئے ملک کیلئے وصولیاں کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ ملک کو ان وسائل کے ذریعے ہی چلایاجاسکتا ہے۔سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے شہری مصدق ذوالقرنین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ ٹیکس وصولی میں مشکلات ہیں ، بیوروکریٹ ،سیاستدان اور تنخواہ دار سب ٹیکس دیتے ہیں لیکن ایک دوسرے پر تنقید بھی کرتے ہیں، سب کو ٹیکس کی ادائیگی کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میری نظر میں ٹیکس چوری ایسے ہی ہے جیسے زکو چوری ہوتی ہے کیونکہ ٹیکس وصولی سے ملک کافائدہ ہے یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ فائلر امیر ہے یا عام آدمی، سب کو ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔مصدق ذوالقرنین نے کہا کہ ایف بی آر میں افسران کو سب معلومات ہوتی ہیں لیکن ان سے پوچھاجائے کہ کسی نے آج تک کسی چیف کمشنر نے کوئی نوٹس بھیجوایا ہو یا اس نے ریٹرن فائل کی ہو اگر ایسا کیاجائے تو بہت ٹیکس وصولی میں بہتری آجائے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد کی 50فیصد سے زائد ہائی رائز عمارتوں میں فائرسیفٹی آلات مکمل نہیں، ذرائع اسلام آباد کی 50فیصد سے زائد ہائی رائز عمارتوں میں فائرسیفٹی آلات مکمل نہیں، ذرائع وادی تیرہ میں خفیہ آپریشنز جاری رہتے ہیں، کے پی حکومت غلط بیانی نہ کرے، عطا تارڑ دعوت اسلامی کے زیر اہتمام دستار فضیلت و تقسیم اسناد اجتماع کا انعقاد وادی تیراہ کو خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس نہ لیا تو پختون قوم کا جرگہ بلائوں گا، سہیل آفریدی کا اعلان چیئرمین سی ڈی اے کی ہدایت پر منفرد کمیونٹی مارکیٹوں کا کامیاب انعقاد جاری وزیراعظم کاپنجگور میں فتنتہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ ایف بی آر چیئرمین ایف بی آر انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ میں تنخواہ دار کہ ٹیکس

پڑھیں:

اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا