ٹرمپ کل مسئلہ کشمیر کو بھی ’بورڈ آف پیس‘ میں لے جا سکتے ہیں، بھارت کو خدشات
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں امن کے لیے 20 نکاتی فارمولے کا اعلان اور اب اس پر عملدرآمد کے آغاز کے بعد بھارت کو خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ کل ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لے جا سکتے ہیں۔
برطانوی کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں تعمیر نو کے لیے بھارت کو امن بورڈ میں مدعو کیا تھا۔ بورڈ کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی قائم کرنا اور عبوری حکومت کی نگرانی کرنا ہے۔
مزید پڑھیں: مسئلہ کشمیر کے تناظر میں ’روس‘ کا شملہ اور لاہور معاہدوں کا ذکر کتنی اہمیت کا حامل ہے؟
رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو دعوت دی گئی تھی، لیکن بھارت اس تقریب میں شریک نہیں ہوا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بورڈ کی رکنیت قبول کرلی، 59 ممالک نے بورڈ پر دستخط کیے جبکہ تقریب میں 19 ممالک کی نمائندگی موجود تھی۔
رپورٹس کے مطابق بھارت کے لیے یہ فیصلہ کہ بورڈ میں شامل ہونا ہے یا نہیں، مغربی ایشیا میں استحکام اور امریکا کے تعلقات پر اثر ڈال سکتا ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کل کشمیر کے تنازعے کو بھی بورڈ میں زیر بحث لا سکتے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سابق بھارتی سفارتکار اکبر الدین کا کہنا ہے کہ بھارت کو امن بورڈ میں شامل نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ بورڈ کی کارروائی اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 سے متصادم ہو سکتی ہے۔
سابق سفارتکار کے مطابق یہ قرارداد بورڈ کی مدت کو 31 دسمبر 2027 تک محدود کرتی ہے اور ہر 6 ماہ بعد رپورٹ پیش کرنے کی پابندی عائد کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا غزہ میں فوری جنگ بندی اور مسئلہ کشمیر کے حل پر زور
ان کا کہنا تھا کہ بورڈ میں شامل ہو کر بھارت بورڈ کے فیصلوں کی توثیق کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی صدر بورڈ آف پیس ڈونلڈ ٹرمپ غزہ امن منصوبہ غزہ تعمیر نو مسئلہ کشمیر وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر بورڈ ا ف پیس ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر وی نیوز مسئلہ کشمیر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کو کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز