پنجاب حکومت کا اسکول و کالجز میں گرمیوں کی چھٹیوں میں کمی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے اسکولوں اور کالجز میں گرمیوں کی چھٹیاں کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد تعلیمی کیلنڈر کو یکساں بنانا اور تعلیمی نتائج میں بہتری لانا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بنچ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی کمیٹی کی سفارشات کے مطابق پنجاب کے تمام اسکولوں اور کالجز کے لیے سالانہ 190 تدریسی دن مکمل کرنا لازمی ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اسکول اب بچوں کو کتابیں اور یونیفارم من پسند دکانوں سے خریدنے پر مجبور نہیں کرسکیں گے، پنجاب حکومت نے تاکید کردی
کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حالیہ برسوں میں تعطیلات میں مسلسل اضافہ تعلیمی نظام پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، خاص طور پر اعلیٰ کلاسوں میں جہاں نصاب بروقت مکمل نہیں ہو پاتا، جس سے طلبا کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان کے مطابق حکومت نے گرمیوں کی چھٹیاں کو 36 دن کم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت تعطیلات دو ماہ 15 دن سے کم کر کے 6 ہفتے (42 دن) کردی جائیں گی۔
اس اقدام کا مقصد طلبا کی تعلیمی کارکردگی میں بہتری اور نصاب کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔ نجی aسکول ایسوسی ایشنز نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسکولوں کے تدریسی اوقات تبدیل، نئے شیڈول کا اطلاق
کمیٹی نے گزشتہ 4 ماہ کے دوران 4 میٹنگز کیں اور تیسری میٹنگ لاہور میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت سیکریٹری اسکول ایجوکیشن نے کی۔ نجی تعلیمی اداروں نے سفارشات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یکساں اور متوازن تعلیمی کیلنڈر تعلیمی معیار کو بہتر بنائے گا اور طلبا کو کورس ورک مکمل کرنے میں مدد دے گا۔
پنجاب ایجوکیشن کرِکیولم اینڈ ٹیسٹنگ اتھارٹی (پی ای سی ٹی اے) اور ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن (ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری) سفارشات کے بعد یکساں تعلیمی کیلنڈر تیار کریں گے۔
یاد رہے کہ یہ کمیٹی لاہور ہائیکورٹ کی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران تشکیل دی گئی تھی، جس میں تعلیمی اداروں میں تعطیلات میں اضافے پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا نجی اسکولوں کی فیس کم کرنے کا فیصلہ، حقیقت کیا ہے؟
کمیٹی کی رپورٹ اگلی سماعت میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد تعلیمی کیلنڈر پر حتمی فیصلہ متوقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسکولز پنجاب چھٹیاں کالجز لاہور ہائیکورٹ موسم گرما.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکولز چھٹیاں کالجز لاہور ہائیکورٹ تعلیمی کیلنڈر پنجاب حکومت
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔