Express News:
2026-07-24@15:35:41 GMT

ادب کی بے ادبی اور ذکر ریاض صدیقی کا

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

میں ماضی بعید کی بات نہیں کر رہا بلکہ دو چار برس قبل کی بات کر رہا ہوں کہ جب اخبار ہر پڑھے لکھے گھر کی ضرورت تھا۔ چنانچہ ایسے گھرانوں میں ناشتے کی میز پر تمام کھانے پینے کے لوازمات کے ساتھ ناشتے کی میز پر تازہ اخبارکا ہونا لازمی امر تھا، ایسا بھی تھا کہ باورچی خانے میں ناشتے کی تیاری سے قبل ہی تمام گھر والے اپنی اپنی نشستوں پر آ کر بیٹھ جاتے اور جب تک ناشتہ تیار ہوکر آتا، لوگ اخبار پڑھتے رہتے یا ناشتہ کرتے ہوئے اخبار بینی کا عمل جاری رہتا۔ اخبار چوں کہ ہر دفتر میں جاتا، دفتر سرکاری ہو یا غیر سرکاری دفاتر ہی کیا حجام کی دکان، تمام ہوٹلوں کھانے کے ہوں یا چائے کے ہوٹل اخبار وہاں کی لازمی ضرورت ہوتا تھا۔

لوگ ایسے مقامات پر اخبار بینی کرتے اور خبروں پر تبصرے بھی لازمی یا بحث کرتے چنانچہ ایسے مقامات پر بڑے الفاظ میں لکھا ہوتا کہ برائے مہربانی سیاسی گفتگو سے پرہیز کریں کیونکہ لوگ اخبار پڑھتے ہوئے سیاسی گفتگو کرتے اور بات لڑائی جھگڑے تک چلی جاتی۔ یہ ہوتا کہ تھوڑی بڑی عمر کے بزرگ لوگ کسی چبوترے یا فٹ پاتھ پر بیٹھ جاتے اور اخبار پڑھتے اور شام کو ریڈیو کے ذریعے ملکی و غیر ملکی ریڈیو چینلز سے خبریں سنتے۔ میں نے خود مشاہدہ کیا ہے سڑک کنارے خاکروب اپنی جھاڑو ایک طرف رکھ کر اخبار پڑھتے ہوئے نظر آتے بلکہ میں نے گداگروں کو بھی اخبار پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ تھا اخبار سے لوگوں کا لگاؤ۔

اب اگر تھوڑا ماضی بعید یا دس بیس برس قبل کا ذکر کریں تو تعلیم یافتہ لوگ اپنے اپنے عزیز و اقارب و دوستوں کو سالگرہ وغیرہ کے مواقع پر تحفے میں شاعری کی کتاب کوئی ناول یا ڈائری پیش کرتے تھے گویا اس وقت یہ کتب وغیرہ ہی بہترین تحفہ ہوا کرتی تھیں جب کہ والدین اپنے بچوں کو ہر ماہ بچوں کے رسائل لا کر دیتے تاکہ بچے مطالعے کی جانب راغب ہو سکیں۔

اسی دور میں جگہ جگہ بک اسٹالز بھی کثرت سے ہوتے تھے جہاں سے لوگ اخبارات رسائل و میگزین یا پسندیدہ کتب و اخبارات خریدتے اور مطالعہ کرتے بلکہ عام گلیوں و بازاروں میں ہاکرز حضرات اخبارات فروخت کرتے اور اپنا رزق حاصل کرتے۔ یہ ایک باعزت روزی کمانے کا ذریعہ بھی تھا، اب ایسے لوگ شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں اور بک اسٹالز بھی غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ اخباری صنعت کے زوال کی کیفیت ہے، البتہ اس زوال کے باعث جوکہ اخباری صنعت میں آیا ہے ہزاروں لوگ جوکہ اخباری صنعت سے وابستہ تھے بے روزگار ہو چکے ہیں، البتہ اب بھی باہمت لوگ اخبارات کی ترسیل کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ٹھیک ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے فوری خبر حاصل ہو جاتی ہے مگر اس حقیقت سے انحراف ممکن ہی نہیں جو لطف اخبار پڑھ کر آ گہی ہوتی ہے وہ لطف دیگر ذرائع سے خبر حاصل کرکے نہیں ہوتا۔ اخبارات کے ساتھ دیگر ادبی کتب کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے اس کی کیفیت یہ ہے کہ کراچی میں ریگل چوک کے قریب اتوار کے روز ایک کتب بازار لگتا ہے ادوار کے روز ایک دوست کے ساتھ وہاں جانے کا اتفاق ہوا، اس بازار میں ادبی کتب کی بے ادبی اپنے عروج پر تھی فقط اردو زبان کی کتب کی حالت یہ تھی کہ کارل مارکس کی کتاب سرمایہ و دیگر کتب گویا بے یار و مددگار فٹ پاتھ پر رکھی تھیں۔

یوسفی صاحب کی کتاب چراغ تلے ، سعادت حسن منٹو کی گنجے فرشتے، شوکت صدیقی کا ناول جانگلوس، قرۃالعین کا ناول آگ کا دریا، علامہ صاحب کی کتاب ضرب کلیم و دیگر کتب اہل ذوق کی منتظر تھیں۔ ہم نے اپنی بساط کے مطابق ابراہیم جلیس کی کتاب چالیس کروڑ بھکاری اور سجاد ظہیر کے صد سالہ جشن ولادت پر لکھی گئی ایک کتاب خریدی۔ یہ کتاب 572 صفحات پر مشتمل ہے جوکہ ہمیں فقط ایک سو روپے میں حاصل ہوئی اور اب ہمارے زیر مطالعہ ہے ایک بات اور کرتے چلیں پاکستان میں جو کتاب چھپتی ہے وہ فقط پانچ سو کاپیاں ہوتی ہیں۔

ان پانچ سو کتب میں سے ایک سو پچاس تقسیم ہو جاتی ہیں اور تین سو پچاس کتب یا کاپیاں پچیس کروڑ اہل ذوق کی منتظر ہوتی ہیں یعنی پچیس کروڑ عوام تین سو پچاس کتب بھی نہیں خریدتی جب کہ ہمارے پڑوسی ملک میں جب کوئی کتاب چھپتی ہے تو اس کی کاپیوں کی تعداد ہوتی ہے گیارہ ہزار۔ اور ایک کتاب کے کئی کئی ایڈیشن چھپتے ہیں۔ یہ فرق ہے ہماری کتاب سے دوری کا اور ان کی کتاب سے محبت کا۔ ہم اتنا ہی عرض کریں گے کہ کتاب سے دوری مت اختیار کریں اور مطالعے کی عادت اپنائیں۔

البتہ یہ تمام کیفیت ایک جانب پھر بھی ہم ایک ادبی شخصیت کا ذکر لازمی کریں گے وہ شخصیت ہے ریاض صدیقی کی جن کا پورا نام ہے ریاض الدین صدیقی، البتہ وہ نامور ہوئے ریاض صدیقی کے نام سے۔ وہ یکم مارچ 1938 کو اترپردیش کے شہر لکھنو میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم میٹرک گونڈہ سے کیا، ان کا خاندان قیام پاکستان کے بعد بھی وہاں مقیم رہا اور پھر ہجرت کرکے لاہور آگئے اور حصول تعلیم کے دیگر مراحل لاہور میں طے کیے۔ البتہ 1973 میں وہ کراچی آگئے اور درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔

ریاض صدیقی کو اردو، سندھی، پنجابی و انگریزی زبانوں پر مکمل عبور حاصل تھا، انھوں نے اردو کی چودہ کتابیں تحریر کیں جن میں چند ایک کے نام یہ ہیں۔ سندھ میں اردو شاعری کا تنقیدی جائزہ، اقبال اقبال ہے، دبستان شاعری، قرارداد پاکستان، منظر پس منظر، جدید مضامین، مجموعہ مضامین تنقید، آکاش پہ کوئی پھول نہیں، یہ ان کا ادبی ناول ہے، پرنس کریم آغا خان، پھول میرا وطن ناول، احوال و افکار، فیض احمد فیض کے بارے میں کتاب دیکھتا ہوں نئے دریچے، حرف نا رسا غالب برا نا مان و دیگر کتب شامل ہیں۔ ریاض صدیقی پروفیسر احتشام حسین سے بے حد متاثر تھے۔ ان کی جھلک ریاض صدیقی کی تحریروں میں بھی ملتی ہے، گویا جہاں پروفیسر احتشام حسین نے قلم چھوڑا تھا وہیں سے ریاض صدیقی نے قلم سے ناتا جوڑ لیا اور یہ ناتا دم آخر قائم رہا۔ وہ مارکسی نظریات پر مکمل عبور و یقین رکھتے تھے۔

وہ تمام عمر ترقی پسند نظریات کا دفاع کرتے رہے اور ترقی پسند تحریک پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے رہے وہ کالجوں کے پروفیسر حضرات کی تحریک میں پیش پیش رہے اور ان کے حقوق کے لیے ہمیشہ اپنی آواز بلند کرتے رہے۔ ہمیشہ اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا وہ ایک حق گو انسان تھے صاف اور دو ٹوک الفاظ میں اپنی بات کرتے تھے۔

اس سلسلے میں اپنے سامنے بیٹھے کسی بھی شخص سے بے نیاز ہوتے تھے کہ سامنے بیٹھا شخص کس رد عمل کا اظہار کرے گا۔ ریاض صدیقی اپنی ایک تحریر میں یوں رقم طراز ہیں کہ کہانی کسی بھی اسلوب و فارم میں لکھی جا سکتی ہے یہ دعویٰ کہ ترقی پسند کہانی نے اس قسم کی جدت بت شکنی اور تجرباتی مشق کی ہمت افزائی نہیں کی تھی لغو الزام ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ اسلوب اور فارم کے بعض نئے تجربے ترقی پسند کہانی لکھنے والوں ہی نے کیے تھے۔ ہاں ترقی پسند روایت یہ شرط ضرور لاگو کرتی ہے کہ بیانیہ میں ابہام تجریت بہت زیادہ بغاوت اور تصوریت یا آئیڈیل ازم حاوی نہ ہو تاکہ تخلیق کا معنوی ربط عام پڑھنے والوں سے ٹوٹنے نہ پائے مگر موت برحق ہے یوں ریاض صدیقی نے بھی 23 جنوری 2006 کو اس جہان فانی سے کوچ کیا۔ ریاض صدیقی نے 67 برس 10 ماہ 22 یوم حیات پائی۔ 23 جنوری 2026 کو ان کی 20 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اخبار پڑھتے ریاض صدیقی لوگ اخبار کی کتاب کے ساتھ

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ دہشتگرد حملہ، وزیراعظم اور صدر مملکت کی شدید مذمت
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی