کوئٹہ+ واشنگٹن + اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ این این آئی) ملک بھر میں برفباری کے بعد بالائی علاقوں میں نظام زندگی متاثر ہو گیا اور سردی کی شدت بھی بڑھ گئی۔ ملک میں پاک فوج کا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ایس ڈی ایم اے کے مطابق 7 آزاد کشمیر کے اضلاع کی بند شاہراہوں کی بحالی کیلئے مشینری کام کر رہی ہے۔ مظفرآباد سے پیر چناسی شاہراہ زاہد چوک سے بند جبکہ ضلع نیلم شاہراہ دواریاں سے تاؤ بٹ شاہراہ کو بھی ٹریفک کیلئے بند کیا گیا ہے۔ ادھر نیلم ویلی کے بیشتر بالائی علاقوں کی رابطہ سڑکیں بھی برفباری سے بند رہیں، بند شاہراہوں کی بحالی کا کام جاری رہا، لیپہ ویلی شاہراہ بھی ریشیاں سے بند رہی۔ باغ سے جہلم ویلی کو ملانے والی شاہراہ سدھن گلی سے بدستور بند رہی، باغ سے محمود گلی اور لسڈنہ شاہراہ بھی بند کی گئی ہے، اس کے علاوہ پونچھ سے مظفرآباد، پونچھ سے باغ، راولاکوٹ سے تھوراڑ شاہراہ بھی برفباری سے بند رہی، راولاکوٹ سے ہجیرہ شاہراہ بھی ٹریفک کیلئے بند رہی۔ سدھنوتی اور حویلی کے بالائی علاقوں کی شاہراہیں بھی برفباری سے بند رہیں۔ ایس ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ برفباری سے آزاد کشمیر کے 2 گھر مکمل جبکہ 4 کو جزوی نقصان پہنچا، جہلم ویلی میں ایک دکان بھی لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔ بلوچستان کے پہاڑی اور شمالی اضلاع اب فریزر میں تبدیل ہو چکے ہیں، شدید سردی کی لہر نے پورے صوبے کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے جہاں پارہ نقطہ انجماد سے کئی ڈگری نیچے گر کر ریکارڈ توڑ رہا ہے۔ زیارت کی وادیوں میں تو گویا برف کا نیا موسم شروع ہو چکا ہے، منفی 12 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ کر وہاں کی ہوائیں ہڈیوں کو چیر رہی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، آج سے ایک نیا سلسلہ بارش اور برفباری کا شروع ہو رہا ہے جو صوبے کے بیشتر حصوں کو سفید چادر اوڑھا دے گا۔ محکمہ موسمیات نے اگلے دو روز تک ملک کے مختلف علاقوں میں مزید بارش اور برف باری کی پیش گوئی کی گئی ہے جس پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے الرٹ جاری کردیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ ملک میں داخل ہوگیا جس نے بالائی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس دوران بلوچستان، گلگت، بلتستان، کشمیر، خیبر پی کے، اسلام آباد، مری اور گلیات میں بارش اور پہاڑی علاقوں میں برف باری کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور اور ملتان سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش ہوسکتی ہے۔ دریں اثنا امریکہ میں شدید نوعیت کے برفانی طوفان کے باعث 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہوگئے جبکہ ہزاروں فضائی پروازیں منسوخ کردی گئیں۔ حکام کے مطابق یہ طوفان اتوار سے مزید شدت اختیار کرسکتا ہے اور مشرقی ریاستوں میں نظامِ زندگی مفلوج ہونے کا خدشہ ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہفتے کے روز طوفان سے پہلے ہی 4 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی گئیں، جبکہ اتوار کے لیے 9 ہزار سے زیادہ پروازیں منسوخ ہونے کی اطلاع ہے۔ برف باری، ژالہ باری، منجمد بارش اور شدید سرد ہوائیں امریکا کے مشرقی دو تہائی حصے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طوفان کو ‘‘تاریخی’’ قرار دیتے ہوئے جنوبی کیرولائنا، ورجینیا، ٹینیسی، جارجیا، نارتھ کیرولائنا سمیت 11 ریاستوں میں وفاقی ہنگامی حالت نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ محکمہ داخلی سلامتی کے مطابق18 ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں موسمی ایمرجنسی نافذ ہے۔ بجلی کی بندش سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاستوں میں لوزیانا، مسیسیپی، ٹیکساس، ٹینیسی اور نیو میکسیکو شامل ہیں۔ محکمہ توانائی نے ٹیکساس میں بجلی کی قلت سے بچنے کے لیے ہنگامی اختیارات جاری کر دیے ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں بھی بجلی کے نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ قومی موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جنوب مشرقی امریکا میں برف اور برفانی بارش کے باعث شدید اور بعض علاقوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ حکام نے شہریوں کو خوراک، ایندھن اور ضروری اشیاء ذخیرہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بالائی علاقوں محکمہ موسمیات علاقوں میں شاہراہ بھی سے بند رہی کے مطابق بارش اور

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل