جموں کشمیر لبریشن الائنس کے ترجمان سجاد میر نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو فوجی طاقت ، کالے قوانین اور بدترین ریاستی تشدد کے ذریعے کچلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں لبریشن الائنس نے بھارتی یوم جمہوریہ کو کشمیریوں کیلئے یوم سیاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس ملک نے ایک پوری قوم کو اس کے بنیادی انسانی، سیاسی اور آئینی حقوق سے محروم کر رکھا ہو، اسے جمہوریت کے نام پر تقریبات منعقد کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ ذرائعِ کے مطابق جموں کشمیر لبریشن الائنس کے ترجمان سجاد میر نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو فوجی طاقت، کالے قوانین اور بدترین ریاستی تشدد کے ذریعے کچلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں آج بھی لاکھوں بھارتی فوجیوں کی موجودگی، آئے روز کرفیو، محاصرے، انٹرنیٹ و مواصلاتی پابندیاں، جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، اجتماعی قبریں اور خواتین و بچوں کے خلاف جرائم اس نام نہاد جمہوریت کے کھوکھلے پن کا کھلا ثبوت ہیں۔سجاد میر نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کو بھارت  مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو یکطرفہ طور پر ختم کر کے نہ صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں بلکہ اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈومیسائل قوانین میں تبدیلی، زمینوں پر قبضہ، آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی منظم کوششیں اور غیر مقامی عناصر کی آبادکاری دراصل آبادیاتی یلغار ہے، جس کا مقصد کشمیری شناخت، تاریخ اور مزاحمتی شعور کو مٹانا ہے۔ سجاد میر نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے جمہوریت کے جھوٹے دعوں کو مسترد کریں، مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو ان کا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقِ خودارادیت دلانے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: لبریشن الائنس جمہوریت کے کہا کہ

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی