مودی حکومت میں انڈیا عالمی تنہائی کا شکار ہوگیا، سابق بھارتی سینیٹر کا بڑا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
بھارت کے سابق سیاستدان اور سینیٹر شانتہ چیتری نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو اندرونی خلفشار اور ناکام خارجہ پالیسی کے باعث عالمی سطح پر تنہائی کا شکار قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے بلند و بانگ دعوؤں کے برعکس بھارت اس وقت سنگین سیاسی، معاشی اور سفارتی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔
شانتہ چیتری کے مطابق مودی کی سفارت کاری زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی اور جھوٹے دعوؤں پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی معیشت، خارجہ پالیسی اور اسٹریٹجک حیثیت پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ بڑھتے ٹیکس، بیروزگاری اور مہنگائی نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
سابق سینیٹر نے کہا کہ امریکا کی جانب سے بھارت پر تجارتی ٹیرف عائد کیے گئے اور بھارت کو چاہ بہار بندرگاہ جیسے اہم منصوبے سے بھی پیچھے ہٹنا پڑا، جو بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا ثبوت ہے۔
شانتہ چیتری کا کہنا تھا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بھارتی پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے مؤثر حکمت عملی کے ذریعے امریکا، سعودی عرب، ترکیہ اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔
https://dailymumtaz.
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلامی ممالک کے درمیان ابھرتا ہوا اتحاد بھارت کے لیے ایک نیا اسٹریٹجک چیلنج بن چکا ہے، اور اگر مستقبل میں کوئی تنازع یا جنگ ہوئی تو بھارت کو صرف پاکستان نہیں بلکہ ایک وسیع اتحاد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سابق بھارتی سیاستدان کے مطابق بھارت اس وقت نہ صرف معاشی بلکہ فوجی سطح پر بھی مشکلات میں گھرا ہوا ہے، جبکہ اندرونی طور پر بیروزگاری، مہنگائی، عدم مساوات اور ماحولیاتی مسائل سنگین شکل اختیار کر چکے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت اپنی ناکامیوں اور عالمی سطح پر ہزیمت کو چھپانے کے لیے مذہبی اور ثقافتی تنازعات کو ہوا دے رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔