ناصر ادیب نے سید نور اور صائمہ کی خفیہ شادی سے متعلق نئے راز افشا کردیے
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
پاکستانی فلم ساز ومصنف ناصر ادیب نے نامور ہدایت کار سید نور اور اداکارہ صائمہ کی خفیہ شادی سے متعلق مزید راز افشا کردیے۔
مولا جٹ اور دی لیجنڈ آف مولا جٹ جیسی مشہور فلموں کے مصنف ناصر ادیب آج کل وہ ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز پر فلمی موضوعات پر اپنی بصیرت افروز گفتگو کی وجہ سے خاصے مقبول ہیں۔
اپنے حالیہ پوڈکاسٹس میں ناصر ادیب مختلف فلمی شخصیات سے متعلق اہم انکشافات کرتے دکھائی دیے۔
رواں ہفتے پوڈکاسٹ میں انہوں نے فلم اسٹار صائمہ سے متعلق گفتگو کی جنہیں حال ہی میں ڈرامہ ’میں منٹو نہیں ہوں‘ میں اپنی اداکاری پر ٹی وی پر خوب سراہا گیا۔
دی بلیو ٹروتھ ڈیجیٹل کے لیے عبدالحئی صدیقی کو دیے گئے انٹرویو میں ناصر ادیب نے سید نور اور صائمہ کی خفیہ شادی سے متعلق نئی تفصیلات سامنے رکھیں۔
صائمہ اور سید نور کے خفیہ نکاح پر بات کرتے ہوئے ناصر ادیب کا کہنا تھا کہ سید نور ان کی زندگی میں آئے اور مجھے اس بارے میں علم ہوا، اگرچہ ان کے تعلق کی تصدیق نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ مجھے حیرت تھی کہ وہ ان کے ساتھ تعلق میں کیسے ہو سکتی ہیں، کیونکہ صائمہ بہت باپردہ اور محفوظ طبیعت کی مالک تھیں، بعد میں مجھے ان کی شادی کی خبر ملی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی شادی میرے ایک فلم کے پروڈیوسر کرامت گجر نے کروائی، جو دونوں کے قریبی دوست تھے جب کہ پوری انڈسٹری اس شادی کے خلاف ہو گئی کیونکہ کئی ہدایت کار صائمہ سے شادی کرنا چاہتے تھے۔
ناصر ادیب نے مزید بتایا کہ مجھے دکھ نہیں ہوا، لیکن میں حیران تھا کہ صائمہ نے سید نور کو کیوں چُنا، میں اب بھی ان کے خلاف تھا، لیکن ایک دن قرآن کا ترجمہ پڑھتے ہوئے میں نے یہ آیت پڑھی کہ ’پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم تھا کہ صائمہ ایک نیک عورت ہیں، جن میں لالچ نہیں تھا، اگر انہوں نے سید نور سے شادی کا فیصلہ کیا تو ضرور ان میں کچھ اچھی خوبیاں ہوں گی، اس کے بعد میں نے فوراً اپنی تمام رنجشیں ختم کر دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صائمہ ایک سادہ عورت تھیں، وہ زیادہ دوست نہیں بناتیں اور نہ ہی کسی اسکینڈل میں ملوث رہیں، ان کا صرف ایک ہی اسکینڈل تھا، اور وہ بھی سید نور کے ساتھ۔ ہر عورت کو ایک اسکینڈل کا حق ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت میں سید نور کے خلاف تھا، لیکن بعد میں میں نے ان کے خلاف اپنی دشمنی ختم کر دی اور وہ نہیں بدلے، لیکن میں نے پھر بھی ان کے ساتھ تمام اختلافات ختم کر دیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہ صائمہ کے خلاف
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔