سپریم کورٹ کا سرکاری ملازمین کے پروموشن سے متعلق بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کے پروموشن سے متعلق کیس میں بڑا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے سرکاری ملازمین کی پروموشن میں تاخیر کے حوالے سے فیصلہ سناتے ہوئے اہل افسر کا پہلی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کے دن سے پروموشن کا حق بحال کر دیا ہے۔ عدالت نے پنجاب سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سرکاری ملازم فخر مجید کی پروموشن 21 جنوری 2012 سے مؤثر قرار دے دی۔
فیصلے کے مطابق پنجاب سروس ٹربیونل نے فخر مجید کی پروموشن سے متعلق اپیل مسترد کی تھی اور یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملازم کو خالی عہدے کے دن سے پروموشن کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اہل سرکاری ملازم کو پہلی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کے انعقاد کے دن سے پروموشن کا حق حاصل ہے۔
7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس عائشہ ملک نے جاری کیا جب کہ کیس کی سماعت جسٹس عائشہ ملک، جسٹس محمد ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے کی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں بتایا کہ ملازم فخر مجید کی استدعا تھی کہ اس کی پروموشن پہلی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کے دن سے بحال کی جائے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سرکاری ملازمین کا پروموشن بنیادی حق ہے ۔ انتظامی غفلت یا تاخیر کا نتیجہ کسی بھی صورت ملازم پر نہیں آنا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ اہل سرکاری ملازم کو بروقت پروموشن کے لیے محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی میں شامل کیا جانا لازم ہے ۔ انتظامی غفلت یا تاخیر کی سزا ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔
عدالت عظمیٰ نے مزید قرار دیا کہ پروموشن میں تاخیر یا لاپروائی ملازم کے حق کو متاثر نہیں کرے گی ۔ سپریم کورٹ نے سرکاری اداروں کو ہدایت کی کہ وہ بروقت پروموشن کے عمل کو یقینی بنائیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملازمین کو انتظامی ناکامی کی سزا نہیں دی جا سکتی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی سرکاری ملازمین سپریم کورٹ نے سرکاری ملازم کی پروموشن ملازم کو کے دن سے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔