کیپٹن صفدر نے سپریم کورٹ سے کیوں رجوع کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر نے کہا ہے کہ ان کا مانسہرہ سے متعلق مقدمہ گزشتہ 22 برس سے سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، جس پر آج بھی حتمی پیش رفت نہ ہو سکی۔
سپریم کورٹ آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ سپریم کورٹ میں اس لیے آئے ہیں تاکہ مقدمے کی جلد سماعت مقرر کروانے کی درخواست کی جا سکے اور مزید 22 سال انتظار نہ کرنا پڑے۔
کیپٹن (ر) صفدر کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف مختلف مقدمات سے متعلق سپریم کورٹ نے واضح حکم دیا تھا کہ یہ کیسز ایبٹ آباد میں سنے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز نے پنجاب کو گلدستہ بنا دیا، پختونخوا کی بہو ہونا عوام کی خوش قسمتی ہے، کیپٹن صفدر
تاہم ایک مجسٹریٹ نے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کا مقدمہ بغیر اطلاع مانسہرہ میں اپنی عدالت میں مقرر کیا اور وہاں ان کے مخالفین کو بری کر دیا۔
کیپٹن (ر) صفدر کے مطابق یہ عمل عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ان سے پوچھا گیا کہ کچھ لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ عدلیہ ایگزیکٹو کے کنٹرول میں ہے اور چونکہ ایگزیکٹو میں ان کے خاندان کے افراد موجود ہیں اس لیے انہیں زیادہ پرامید ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں: کیپٹن صفدر کے پشاور میں ڈیرے: کیا ن لیگ عوامی نیشنل پارٹی سے انتخابی اتحاد کر رہی ہے؟
جس پر کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ اگر کسی ریاست میں اس نوعیت کے حالات پیدا ہو جائیں تو ریاست چل نہیں سکتی، عدلیہ ہمیشہ سے آزاد رہی ہے اور اسے آزاد ہی رہنا چاہیے۔
کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ عدلیہ کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوتی، بعض اوقات یہ اپنے بھی کنٹرول میں نہیں ہوتی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عدلیہ کسی کے کنٹرول میں ہوتی تو سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود ان کے مقدمے کے ساتھ ایسا نہ ہوتا۔
مزید پڑھیں: عوام کی خدمت کا فائدہ نہیں، مخصوص جگہ سیلوٹ مارنے سے حکومت ملتی ہے، کیپٹن (ر) صفدر
انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عدلیہ کسی فرد یا ادارے کے زیرِ اثر نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ مجسٹریٹ کو سپریم کورٹ میں جواب دینا پڑے گا کہ انہوں نے اپنے ہی بڑے ادارے کے حکم پر عمل کیوں نہیں کیا۔
کیپٹن (ر) صفدر کے مطابق وہ انصاف کے حصول کے لیے عدالت عظمیٰ سے رجوع کر رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ان کے مقدمے کی جلد سماعت مقرر کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد عدلیہ انصاف ایگزیکٹیو سپریم کورٹ عدالت عظمیٰ عدلیہ کیپٹن صفدر مانسہرہ مجسٹریٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا زاد عدلیہ انصاف ایگزیکٹیو سپریم کورٹ عدالت عظمی عدلیہ کیپٹن صفدر مجسٹریٹ کیپٹن صفدر کنٹرول میں سپریم کورٹ انہوں نے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
عالمی ردعملآسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
قانونی ماہرین کی رائےتجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ ٹیرف