راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے علیمہ خان کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت 28 جنوری تک ملتوی کر دی۔
 نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت کی، بانی کی بہن عدالت پیش نہ ہوئیں۔

وکیل صفائی فیصل ملک نے علیمہ خان کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ علیمہ خان کی لاہور میں دیگر مصروفیات ہیں، آج عدالت حاضر ہونے سے قاصر ہیں، کل (منگل) کو میری دیگر عدالتی مصروفیات ہیں، مقدمہ کی تاریخ اس سے آگے کی دی جائے۔

پاکستان اور میانمار کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

عدالت نے علیمہ خان کی آج کی تاریخ پیشی سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی۔

وکیل صفائی فیصل ملک نے علیمہ خان کے بینک اکاؤنٹ کو ڈی فریز کرنے اور ان کے بلاک کئے گئے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی بھی بحالی کی درخواست کی جسے عدالت نے سماعت کے لئے منظور کرتے سرکار کو نوٹس جاری کر دیئے، پراسیکیوٹر آئندہ تاریخ پر ان درخواستوں پر اپنے دلائل دیں گے۔
 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: نے علیمہ خان علیمہ خان کی کی درخواست

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی