میٹرک بورڈ کراچی،رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت معلومات کی فراہمی کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (رپورٹ : حمادحسین ) ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی (میٹرک بورڈ) میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ “سندھ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016” کے تحت بورڈ انتظامیہ سے گزشتہ 5 سال کا مکمل انتظامی اور مالیاتی ریکارڈ فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ درخواست جمع کرا دی گئی ہے۔ یہ درخواست جسارت کے ایجوکیشن رپورٹر حماد حسین کی جانب سے پبلک انفارمیشن آفیسر اور چیئرمین آفس میں جمع کرائی گئی ہے، جس میں بورڈ کے اندرونی معاملات سے متعلق 18 تزویراتی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔درخواست گزار نے بورڈ کے چیئرمین، سیکرٹری اور کنٹرولر امتحانات کی مدتِ تعیناتی، بورڈ کی تنظیمی ساخت اور گزشتہ 5 سال میں ہونے والی بورڈ میٹنگز کے منٹس کی نقول طلب کی ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ 5 سال میں کی جانے والی مستقل اور کنٹریکٹ بھرتیوں، خالی اسامیوں کی فہرست اور گزشتہ3 مالی سال کے منظور و خرچ شدہ بجٹ کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔درخواست میں بورڈ کے بینک اکاؤنٹس، مجاز دستخط کنندگان، آڈٹ رپورٹس اور امتحانی فیسوں میں اضافے سے متعلق دستاویزات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں، سامان و خدمات کی خریداری (پرنٹنگ، آئی ٹی سسٹم) کے ٹینڈرز، سپلائرز کی تفصیلات اور کسی بھی امتحانی بے ضابطگی یا ‘پیپر لیک’ سے متعلق ہونے والی انکوائریوں کی رپورٹس بھی طلب کی گئی ہیں۔سندھ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت سرکاری ادارے ایسی معلومات فراہم کرنے کے پابند ہیں تاکہ عوامی اداروں میں کرپشن کا خاتمہ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر معلومات کی فراہمی پر کوئی فیس مقرر ہے تو وہ جمع کرانے کو تیار ہیں، تاہم قانون کے مطابق 15 روز کے اندر جواب فراہم کیا جائے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اس طرح کی عوامی مداخلت سے بورڈ کے معاملات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انفارمیشن ا بورڈ کے
پڑھیں:
کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
— فائل فوٹوکراچی کے علاقے ملیر 15 میں رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ پولیس نے بھتہ خوروں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی۔
اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 بھتہ خور ہلاک جبکہ ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
ترجمان رینجرز کے مطابق بھتہ خوروں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ایس آئی یو کے ہمراہ کارروائی کی گئی تو وہاں موجود بھتہ خوروں نے رینجرز اور ایس آئی یو کی نفری پر حملہ کر دیا۔
ڈاکٹر آکاش سے 13جولائی کو ہلاک ڈاکوؤں نے کلفٹن میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بینک کے باہر لوٹ مار کی تھی۔
ترجمان کے مطابق اس کے بعد مزید نفری کو طلب کیا گیا اور فائرنگ کے تبادلے میں 3 بھتہ خور ہلاک ہو گئے جبکہ 1 کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
ہلاک اور زخمی ہونے والے بھتہ خوروں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
ملزمان سے اسلحہ، موبائل فون اور موٹر سائیکل ملی ہے۔