صدر آصف علی زرداری اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ متحدہ عرب امارات کا 4 روزہ سرکاری دورہ کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )صدر مملکت آصف علی زرداری متحدہ عرب امارات کا 4 روزہ سرکاری دورہ کریں گے،دورے میں ان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہوگا۔
وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق یو اے ای کے دورے کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری متحدہ عرب امارات کی قیادت سے اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں کریں گے جن میں دوطرفہ تعلقات بالخصوص تجارت و اقتصادی شراکت داری، دفاع و سلامتی، اور عوامی روابط کے شعبہ جات میں تعاون پر گفتگو ہوگی۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا جو دونوں ممالک کے باہمی مفاد سے متعلق ہیں۔’’اے پی پی ‘‘ کے مطابق صدرِ پاکستان کا یہ دورہ حال ہی میں متحدہ عرب امارات کے صدر کے پاکستان کے دورے کے بعد ہو رہا ہے جو دونوں برادر ممالک کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور اس عزم کی تجدید کرتا ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی مضبوط دوستی کو ایک باہمی مفاد پر مبنی اور ثمرآور شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔
مشہور ٹک ٹاکر علینہ عامر کا اپنی نازیبا لیک ویڈیو پر ردعمل وائرل
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔