ٹی20 ورلڈ کپ کا ممکنہ بائیکاٹ، کیا آئی سی سی پاکستان کے خلاف کارروائی کا اختیار رکھتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
ٹی20 ورلڈ کپ کے ممکنہ بائیکاٹ کے معاملے پر بھارتی میڈیا نے پاکستان کو خوفزدہ کرنے اور کڑی کارروائیوں کی دھمکیاں دینے کی مہم شروع کردی ہے، تاہم یہ کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔
بھارتی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگر پاکستان ورلڈ ٹی20 کا بائیکاٹ کرتا ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور اس کا اثر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) پر بھی پڑ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت میں مہلک وائرس پھیل گیا، ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 شدید خطرات سے دوچار
بھارتی میڈیا کے مطابق آئی سی سی کی ہدایت پر مختلف کرکٹ بورڈز اپنے کھلاڑیوں کو پی ایس ایل میں شرکت کی اجازت دینے سے انکار کر سکتے ہیں جبکہ پاکستان کی دستبرداری کی صورت میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سخت اور سنگین کارروائی کر سکتی ہے۔
بھارتی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ آئی سی سی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کے حالیہ بیانات سے ناخوش ہے، جن میں انہوں نے بنگلہ دیشی موقف کی کھل کر حمایت کی تھی۔
دوسری جانب اسپورٹس جرنلسٹ فیضان لاکھانی نے بھارتی میڈیا کے ان دعوؤں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئی سی سی کھلاڑیوں کو مختلف لیگز کھیلنے کے لیے این او سی جاری نہیں کرتی، بلکہ یہ اختیار کھلاڑیوں کے اپنے متعلقہ ہوم بورڈز کے پاس ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اسی طرح ایشیا کپ کی میزبانی کا فیصلہ بھی آئی سی سی نہیں بلکہ ایشین کرکٹ کونسل کرتی ہے، جس کی سربراہی اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس ہے۔
The ICC does not issue NOCs to players for leagues – that authority is with the players’ respective home boards.
— Faizan Lakhani (@faizanlakhani) January 26, 2026
فیضان لاکھانی کے مطابق آئی سی سی دو طرفہ سیریز کا شیڈول بھی تیار نہیں کرتی، بلکہ یہ فیصلے باہمی طور پر متعلقہ ممالک کی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی سی سی آخر پاکستان کے خلاف کس بنیاد پر کوئی فیصلہ کر سکتی ہے۔
’اگر پاکستان ٹیم کو حکومتی سطح پر شرکت سے روکا جاتا ہے تو آئی سی سی کے پاس عملی طور پر بہت کم اختیارات رہ جاتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہاکہ اس حوالے سے ماضی میں واضح مثالیں موجود ہیں، جب دیگر ٹیموں نے بھی اپنی حکومتوں کے مشورے پر عمل کیا اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
اسپورٹس جرنلسٹ کے مطابق جو لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ آئی سی سی ورلڈ ٹی20 سے دستبرداری کی صورت میں پاکستان پر پابندیاں عائد کرے گی، وہ غلطی پر ہیں۔
مزید پڑھیں: ’ٹی20 ورلڈ کپ سے متعلق حکومت کا فیصلہ قبول ہوگا‘، محسن نقوی کی قومی ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملاقات
واضح رہے کہ فیضان لاکھانی نے ذاتی طور پر اس بات کی حمایت نہیں کی کہ پاکستان کو ورلڈ ٹی20 سے دستبردار ہونا چاہیے، تاہم ان کے مطابق بھارتی میڈیا کی جانب سے پھیلایا جانے والا خوف اور دباؤ بے بنیاد ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی سی سی بائیکاٹ بھارتی میڈیا ٹی20 ورلڈ کپ وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بائیکاٹ بھارتی میڈیا ٹی20 ورلڈ کپ وی نیوز بھارتی میڈیا کہ آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ کے مطابق
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔