data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

چائے برصغیر کی معاشرتی زندگی کا ایک لازم جزو بن چکی ہے۔ دن کا آغاز ہو یا کام کے دوران وقفہ، مہمان نوازی ہو یا دوستوں کی محفل، چائے کو تازگی اور ذہنی سکون کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ماہرینِ صحت خبردار کرتے ہیں کہ چائے کا حد سے زیادہ استعمال وہ نقصانات بھی پیدا کر سکتا ہے جن پر عموماً توجہ نہیں دی جاتی۔

طبی ماہرین کے مطابق چائے میں موجود کیفین وقتی طور پر جسم کو چست اور ذہن کو متحرک ضرور کرتی ہے، لیکن اس کا مسلسل اور زیادہ استعمال بے چینی، گھبراہٹ اور دل کی دھڑکن میں غیر معمولی تیزی کا باعث بن سکتا ہے۔ بعض افراد میں سر درد، ہاتھوں میں کپکپاہٹ یا چکر آنے جیسی علامات بھی سامنے آتی ہیں، خاص طور پر جب دن بھر میں کئی کپ چائے پی لی جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ چائے نوشی نیند کے قدرتی نظام کو بھی متاثر کر سکتی ہے، شام یا رات گئے چائے پینے کے عادی افراد کو اکثر نیند آنے میں دشواری، بار بار آنکھ کھلنے یا بے خوابی کی شکایت رہتی ہے، کیفین جسم میں کئی گھنٹوں تک اپنا اثر برقرار رکھتی ہے، اسی لیے رات کے اوقات میں کیفین والی چائے سے پرہیز کو بہتر صحت کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے۔

معدے کے حوالے سے بھی چائے کا زیادہ استعمال مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق خالی پیٹ چائے پینے سے معدے میں تیزابیت بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں جلن، بدہضمی اور سینے کی جکڑن جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ حساس معدے کے حامل افراد میں یہ شکایات زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ سکتی ہیں۔

چائے میں موجود ٹیننز نامی اجزاء جسم میں آئرن کے جذب میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اسی وجہ سے کھانے کے فوراً بعد چائے پینے کو غیر مناسب سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ عادت طویل مدت میں خون کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ خصوصاً خواتین، بچوں اور کمزور افراد میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔

طبی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ کیفین کا زیادہ استعمال جسم سے کیلشیم کے اخراج کو بڑھا سکتا ہے، جس سے وقت کے ساتھ ہڈیوں کی مضبوطی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اعتدال میں چائے پینا عام طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن مسلسل حد سے تجاوز ہڈیوں کی کمزوری جیسے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

دانتوں کی صحت پر بھی چائے کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ چائے میں موجود قدرتی رنگ دانتوں پر داغ ڈال سکتے ہیں، جس سے دانتوں کی رنگت پیلی پڑنے لگتی ہے۔ اس کے علاوہ بہت زیادہ گرم چائے پینے کی عادت مسوڑھوں کو حساس بنا سکتی ہے، جو آگے چل کر دانتوں کے دیگر مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

ماہرینِ غذائیت کے مطابق زیادہ تر صحت مند بالغ افراد کے لیے دن میں دو سے تین کپ چائے مناسب سمجھی جاتی ہے۔ اس حد کے اندر رہ کر چائے پینے سے جسم کو توانائی اور ذہنی تازگی ملتی ہے، تاہم اگر بار بار بے چینی، معدے کی خرابی یا نیند میں خلل محسوس ہو تو چائے کی مقدار میں کمی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ چائے کو متوازن انداز میں استعمال کیا جائے۔ خالی پیٹ چائے سے گریز، رات کے وقت کیفین والی چائے نہ پینا، اور دودھ و چینی کی مقدار محدود رکھنا بہتر صحت کی جانب اہم قدم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سبز چائے یا ہربل ٹی کو کبھی کبھار متبادل کے طور پر شامل کرنا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چائے اگر اعتدال میں پی جائے تو لطف، تازگی اور ذہنی سکون کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن حد سے زیادہ استعمال نیند کی خرابی، معدے کے مسائل، آئرن کی کمی اور بے چینی جیسے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ بہتر اور متوازن زندگی کے لیے چائے نوشی میں توازن رکھنا ہی دانش مندی ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: زیادہ استعمال چائے پینے کے مطابق جاتا ہے سکتا ہے سکتی ہے کے لیے

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ