کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)گورنر سٹیٹ بینک نے اہم بیان جاری جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کواس سال 25 ارب ڈالر کے قرضے واپس کرنا ہیں، 25ارب ڈالرمیں سے12.5ارب ڈالر کا قرضہ رول اوور ہو رہا ہے، پاکستان کے بیرونی قرضوں کی کمپوزیشن بہت بدل گئی ہے، پاکستان نے7ارب ڈالر کے قرضے واپس بھی کر دیے ہیں، اب پاکستان کے بیرونی قرضے زیادہ ترلانگ ٹرم ہوں گے پہلے شارٹ ٹرم تھے۔

تفصیلات کے مطابق جمیل احمد کا کہناتھا کہ پاکستان کا بیرونی قرض 4 سال سے نہیں بڑھا،100ارب ڈالر سے نیچے ہی رہے گا،عالمی سطح پر پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بڑھے گی،اسمگلنگ پر کریک ڈاؤن سے ایکسچینج ریٹ مستحکم ہوا، اسٹیٹ بینک نے پچھلے 3 سال میں کھلی مارکیٹ سے 22 ارب ڈالر خریدے ہیں۔

رمضان شروع ہونے سے پہلے ہی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے 47 ارب روپے کے’’رمضان نگہبان پیکج‘‘ کی منظوری دے دی،عظمیٰ بخاری

سٹیٹ بینک نے ملکی زرمبادلہ ذخائر کا ہدف بھی تبدیل کر لیاہے ، گورنر نے کہا کہ  دسمبر تک پاکستان کے سرکاری ڈالرذ خائر 20 ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائیں گے، اس میں کمرشل بینکوں کے ڈالر ڈپازٹس شام نہیں ہوں گے، اس وقت پاکستان کے سرکاری ڈالر ذخائر16.

1ارب ڈالر  ہیں،اس سال جون تک پاکستان کے ڈالرذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔

جمیل احمد کا کہناتھا کہ دسمبر2026ءتک پاکستان کےسرکاری ڈالرذخائرتاریخ کی بلندترین سطح پرپہنچ جائیں گے، اگست 2021 ءمیں پاکستان کے سرکاری ڈالر ذخائر 20 ارب ڈالر پر پہنچے تھے، دسمبر تک پاکستان 3 ماہ کی درآمدات کے برابر ڈالر ذخائر رکھنے کا سنگ میل حاصل کر لے گا، نومبر دسمبر میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں زیادہ اضافہ ہوا، سیلاب کے منفی اثرات بھی محدود رہے،زراعت کے شعبے میں بہتری آئے گی۔

جے یو آئی کا 8 فروری 2024 کے متنازع اور بدترین دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ

گورنر سٹیٹ بینک کا کہناتھا کہ اسٹیٹ بینک نے معاشی شرح نمو کے اپنے دیئے گئے ہدف سے رجوع کر لیا، اسٹیٹ بینک کے پچھلے تخمینے سے جی ڈی پی گروتھ اب زیادہ ہو گا،  اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ جی ڈی پی گروتھ اب زیادہ ہو گی، پہلے اسٹیٹ بینک نےجی ڈی پی گروتھ کا تخمینہ 3.25 فیصد سے4.24فیصد لگایا تھا، اسٹیٹ بینک سمجھتاہےکہ ملکی جی ڈی پی گروتھ رواں مالی سال3.75فیصدسے4.75فیصدرہےگی۔

ان کا کہناتھا کہ اسٹیٹ بینک نے دوسرا بہت اہم فیصلہ بھی کیا، اسٹیٹ بینک نےنجی شعبے کو قرضوں کے اجرا کا بھی تفصیلی جائزہ لیا، بینکس کیش ریزرو اسٹیٹ بینک کے پاس رکھواتا ہے، کیش ریزرو ریکوائرمنٹ کی یومیہ حد کو ایک فیصد کم کر دیا ہے، اب بینکس اسٹیٹ بینک کےپاس کیش ریزرو 6 فیصد کے بجائے 5 فیصد رکھوائیں گے، 15روزہ کیش ریزرو ریکوائرمنٹ میں بھی تین فیصد کمی کر دی ہے، اب بینکوں کے پاس کیش یا لیکویڈیٹی زیادہ ہو گی اور وہ نجی شعبے کو زیادہ قرضے دیں گے۔

لاہور گلبرگ میں واقع نجی ہوٹل میں آگ کیسے لگی؟ مختلف اداروں کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا مہنگائی کا ہدف 5سے 7 فیصد ہی ہے، مہنگائی کچھ ماہ میں بڑھے گی پھر دوبارہ ہدف کے اندر آجائے گی، اسٹیٹ بینک کا تخمینہ ہےکہ ملکی کرنٹ اکاؤنٹ جی ڈی پی کا0.2فیصد سے 1 فیصد رہے گا، جی ڈی پی گروتھ بڑھنا شروع ہو گئی ہے،مکمل اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے، سیمنٹ،آٹو،پیٹرولیم،بجلی،یوریاسب کی سیلز اور بڑی صنعتوں کی پیداوار بڑھ رہی ہے۔

جمیل احمد نے بتایا کہ ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے شرح سود کو 10.5 فیصدپر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا،درآمدات بڑھ رہی ہیں، اجلاس میں جی ڈی پی گروتھ کا تفصیلی جائزہ لیا، رواں مالی سال کے دوسری سہ ماہی میں مہنگائی 7 فیصد سے اوپر جا سکتی ہے، ایکسٹرنل اکاؤنٹس میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا،  مانیٹری پالیسی نے مہنگائی کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا۔

کراچی میں سال 2026 میں پہلا ریبیز کا کیس رپورٹ ، متاثرہ بچی کو آوارہ کتے کے کاٹنے کے ڈیڑھ ماہ بعد علامات ظاہر ہوئیں

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: جی ڈی پی گروتھ کا کہناتھا کہ اسٹیٹ بینک نے سٹیٹ بینک نے پاکستان کے تک پاکستان کیش ریزرو ارب ڈالر

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن