لاہور ہائیکورٹ نے بسنت کی اجازت کیخلاف درخواست پر ڈپٹی کمشنر اور ڈی جی پی آر افسران کو طلب کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ہائیکورٹ نے بسنت کی اجازت کے خلاف دائر درخواست پرڈپٹی کمشنرلاہور،ڈی جی پی آرسمیت مختلف محکموں کے افسران کو آئندہ سماعت پرذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔عدالت نےہدایت کی دوسرے صوبوں سے خطرناک دھاگے کی درآمد روکی جائے۔
لاہورہائیکورٹ کےجسٹس ملک اویس خالد نے بسنت درخواستوں پرسماعت کی۔اسپشل سیکرٹری ہوم نےعدالت میں بتایا پنجاب میں بسنت صرف لاہورمیں ہی منائی جارہی ہے۔ عدالت نےکہا کسی نقصان سےبچانا بھی حکومتی ذمہ داری ہے۔ آگ لگنے جیسے واقعات ہو رہے ہیں ایسے واقعات روکنے کیلئےاقدامات کئےجائیں۔چھوٹے بچوں پر مقدمات ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔اسپشل سیکرٹری ہوم نےبتایا چھوٹے بچوں کو صرف جرمانہ کیا جاتا ہے۔سترکلینک آن ویلزفیلڈ میں ہوں گے تمام اسپتالوں میں خصوصی انتظامات کئے گئےہیں۔عدالت نے اٹھائیس جنوری کومختلف محکموں کے افسران کوذاتی حیثیت میں طلب کیا۔
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی پر ریاستی اداروں اور آئین کے خلاف اشتعال انگیز خطاب پر مقدمہ درج
دوسری طرف لاہورکےوکیل نےسیشن کورٹ کی چھت مانگ لی سیشن جج لاہورطارق خورشید خواجہ نےدرخواست خارج کردی۔ سیشن جج نے صدرلاہورباراورسی سی پی او لاہور کومراسلہ جاری کرتے ہوئے لکھا سیشن کورٹ کا احاطہ انتہائی حساس اورسکیورٹی زون ہے۔ایسی تقریبات کی اجازت دینا سنگین سیکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز