ایران پر حملے کے لئے اپنی حدود استعمال کرنے نہیں دیں گے؛متحدہ عرب امارات
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ابوظبی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی سے خود کو الگ رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے کے لیے اپنی حدود کو استعمال نہیں ہونے دے گا۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا ہے یو اے ای کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود، زمینی علاقے یا سمندری حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔
یو اے ای کی وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یو اے ای کسی بھی حملے کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے لاجسٹک معاونت فراہم کی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور ریاستی خودمختاری کا احترام موجودہ بحران سے نمٹنے کا بہترین راستہ ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے اور دونوں جانب سے شدید بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران کے یو اے ای کسی بھی کے لیے
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔