وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لازمی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط بھیج دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی جانب سے آئینی طور پر لازم وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم پاکستان کو باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے خط میں واضح کیا ہے کہ وفاقی رقوم کی منتقلی میں مسلسل تاخیر صوبے کو شدید مالی بحران سے دوچار کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں صوبائی گورننس، بجٹ عمل درآمد اور عوامی خدمات کی فراہمی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں نشاندہی کی کہ صوبائی بجٹ آئینی مالی حقوق اور متوقع وفاقی ریلیزز کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا، تاہم عملی طور پر اصل ریلیز بجٹ اہداف سے نمایاں طور پر کم رہی ہیں۔
انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب روپے کے مقابلے میں اب تک صرف 604 ارب روپے موصول ہوئے ہیں، جس کے باعث 54 ارب روپے کا واضح شارٹ فال پیدا ہوا ہے، جس نے کیش مینجمنٹ اور ترقیاتی و سماجی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو شدید متاثر کیا ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے اس امر پر زور دیا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبہ ہے اور قومی سطح پر بھاری اخراجات برداشت کر رہا ہے۔
انسداد دہشت گردی، سیلاب سے بحالی، عارضی طور پر بے گھر افراد کی دیکھ بھال اور امن و امان کے قیام جیسے امور پر آنے والا مالی بوجھ غیر منصفانہ طور پر صوبے پر ڈالا جا رہا ہے، جو درحقیقت قومی ذمہ داریاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیٹ ہائیڈل منافع، آئل اینڈ گیس رائلٹیز اور این ایف سی منتقلیاں آئینی واجبات ہیں اور معمول کی ماہانہ این ایف سی منتقلی روکنا نہ صرف آئین بلکہ کوآپریٹو فیڈرلزم کی روح کے بھی منافی ہے۔
خط میں وزیراعلیٰ نے ضم شدہ اضلاع کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان اضلاع کے لیے صوبائی سطح پر 292 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جبکہ وفاق کی جانب سے اب تک صرف 56 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں، وفاقی سطح پر تاخیر نے انضمام کے مقاصد کو نقصان پہنچایا ہے اور اس سے قومی یکجہتی بھی کمزور ہو رہی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی واجبات کی فوری اور غیر مشروط ادائیگی یقینی بنائی جائے کیونکہ مزید تاخیر صوبے پر مالی دباؤ میں اضافے کا باعث بنے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ این ایف سی منتقلی، نیٹ ہائیڈل منافع، تیل و گیس رائلٹیز اور ضم شدہ اضلاع کے فنڈز آئینی تقاضوں کے مطابق فوری طور پر جاری کیے جائیں۔
خط کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے معاملے کی سنگینی کے پیش نظر وزیراعظم کی فوری اور ذاتی توجہ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس معاملے میں مزید تاخیر صوبے پر مزید مالی دباؤ کا باعث بنے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ارب روپے
پڑھیں:
سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے خلاف دائر مختلف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں، جبکہ عمران خان رہائی فورس کے خلاف دائر درخواست اور خیبرپختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات واپس لینے کے خلاف اپیل پر 29 جولائی کو سماعت ہوگی۔
چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی عدالت کا 3 رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری، کیا مقدمات کے باعث ان کی کرسی خطرے میں ہے؟
عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، آئینی عدالت اس سے قبل 9 مئی کے مقدمات کی واپسی کے حکومتی فیصلے پر حکم امتناع بھی جاری کرچکی ہے۔
ریڈیو پاکستان کی جانب سے پشاورمیں ریڈیو پاکستان پر حملے سے متعلق مقدمہ واپس لینے کے خیبرپختونخوا حکومت کے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے کا کیس: سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
درخواست میں ریڈیو پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقدمہ خیبرپختونخوا سے کسی دوسرے صوبے منتقل کیا جائے، جس کی استدعا بھی عدالت کے سامنے زیر غور آئے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9 مئی جسٹس امین الدین خان چیف جسٹس حکم امتناع خیبر پختونخوا رہائی فورس ریڈیو پاکستان سہیل آفریدی عمران خان وزیر اعلی وفاقی آئینی عدالت