ائیرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن سمیت دیگر جنگی جہازوں پر مشتمل امریکی بحری بیڑہ مشرق وسطی پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
ائیرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن سمیت دیگر جنگی جہازوں پر مشتمل امریکی بحری بیڑہ مشرق وسطی پہنچ گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 26 January, 2026 سب نیوز
عدن(آئی پی ایس )امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن ائیر کرافٹ کیریئر اور اس کے ساتھ موجود دیگر جنگی جہازوں پر مشتمل بحری بیڑا مشرقِ وسطی پہنچ گیا ہے۔امریکی فوج کے مطابق اس بحری بیڑے کے پہنچنے سے خطے میں امریکا کی عسکری قوت میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
یہ بحری بیڑا ایک ایسے وقت میں خطے میں تعینات کیا گیا ہے جب گزشتہ دنوں ایرانی حکومت کی جانب سے ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈان پر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی۔ اگرچہ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹ گئے تھے تاہم ان کا کہنا ہے کہ تمام آپشنز بدستور موجود ہیں۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ یہ بحری بیڑا علاقائی سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے اس وقت مشرقِ وسطی میں تعینات ہے۔دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کسی بھی بیرونی مداخلت کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے۔ انہوں نے بظاہر یو ایس ایس ابراہم لنکن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے جنگی جہاز کی آمد ایران کے عزم اور ایرانی قوم کے دفاع کے لیے اس کی سنجیدگی کو متاثر نہیں کرے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسری لنکا کے ہائی کمشنر کا ایل او ایل سی مائیکرو فنانس لمیٹڈ کی 88ویں شاخ کا افتتاح سری لنکا کے ہائی کمشنر کا ایل او ایل سی مائیکرو فنانس لمیٹڈ کی 88ویں شاخ کا افتتاح سانحہ گل پلازہ میں جل کر راکھ ہوئے 46 افراد کی تلاش معمہ بن گئی روضہ رسول ۖ پر پاکستانی عوام کیجانب سے حاضری کیلئے پارلیمانی وفد سرکاری خرچ پر بھجوایا جائے، مذہبی امورکمیٹی ایران پر کسی حملے کیلئے اپنی زمینی، فضائی یا سمندری حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے: متحدہ عرب امارت آن لائن ویزا کی سہولت کے بعد غیر ملکی سیاح و کوہ پیما پاکستان آنے کیلیے بے تاب ہیں، صدر الپائن کلب چیئر مین سی ڈی اے کی زیر صدارت اعلی سطح اجلاس،سیکیورٹی صورتحال کا جائزہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ابراہم لنکن
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔