لیپ ٹاپ اسکیم، حکومتی اسکیم سے حاصل کرنے کا طریقہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
لاہور:(نیوزڈیسک) پنجاب حکومت نے طلبا کے لیے چیف منسٹر لیپ ٹاپ اسکیم 2026 کا آغاز کر دیا۔ جس کے تحت پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے اہل طلبا 15 فروری 2026 تک مفت لیپ ٹاپ کے لیے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق اس اسکیم کا مقصد ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دینا، تحقیقاتی سرگرمیوں کو بہتر بنانا اور ہائر ایجوکیشن کے طلبا کو جدید ٹیکنالوجی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
اسکیم کے تحت وہ طلبا اہل ہوں گے جو ایچ ای سی سے تسلیم شدہ پبلک یا پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہوں۔ اور جنہوں نے کم از کم 65 فیصد نمبر یا مساوی سی جی پی اے (CGPA) حاصل کیا ہو۔
حکام نے طلبا کو ہدایت کی ہے کہ درخواست دینے سے قبل اپنی اہلیت متعلقہ ادارے سے تصدیق کر لیں۔
درخواستیں آن لائن ویب سائٹ http://cmlaptophed.
درخواست کے لیے طلبا کو اپنا قومی شناختی کارڈ یا ب فارم نمبر اور تعلیمی تفصیلات درست طور پر درج کرنا ہوں گی۔ جبکہ نامکمل یا غلط معلومات پر مشتمل درخواستیں مسترد کر دی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی اندرونی تقسیم کا شکار، کسی احتجاج سے حکومت کو خطرہ نہیں، خواجہ آصف
پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے اور تعلیمی میدان میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔