سکردو میں متوقع شدید برفباری کے پیش نظر تمام محکموں کو الرٹ کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
چیئرمین ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سکردو کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق 26 جنوری 2026ء کی شام/رات سے 27 جنوری 2026ء تک گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں تیز ہوائیں، گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش اور شدید برفباری کا قوی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سکردو میں شدید متوقع شدید برفباری کے پیش نظر تمام محکموں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ مشکل صورتحال میں عوام کی بروقت مدد کی جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر سکردو نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خراب موسمی حالات کے دوران غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔ دوسری جانب چیئرمین ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سکردو کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق 26 جنوری 2026ء کی شام/رات سے 27 جنوری 2026ء تک گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں تیز ہوائیں، گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش اور شدید برفباری کا قوی امکان ہے۔ مذکورہ موسمی صورتحال کے باعث سڑکوں کے بند ہونے، پھسلن اور ٹریفک کی روانی میں خلل کا خدشہ ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔