جامعہ کراچی کے ’’انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز‘‘ آئی سی سی بی ایس کی موجودہ انتظامیہ کی جانب سینڈیکیٹ کی نمائندگی کے بغیر سلیکشن بورڈ کرانے کی تیاری کرلی گئی یے اور  پروفیسر کی اسامی کے لیے یہ سلیکشن بورڈ منگل کو ہورہا ہے، جس میں سینڈیکیٹ کا نمائندہ شریک نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ سینڈیکیٹ جامعہ کراچی کا فیصلہ ساز ادارہ ہے جس کی نمائندگی یونیورسٹی کے تمام انسٹی ٹیوٹس کے سلیکشن بورڈز سمیت یونیورسٹی کے شعبوں کے لیے قائم سلیکشن بورڈ میں ہونی لازمی ہے اور اس ضمن میں جامعہ کراچی کی سینڈیکیٹ نے اپنے حال ہی میں منعقدہ اجلاس میں ایک سابق بیوروکریٹ اور سینڈیکیٹ میں وزیر اعلی سندھ کے نمائندے سہیل اکبر شاہ کو آئی سی سی بی ایس کے سلیکشن بورڈ میں نمائندگی دی ہے۔

خود شعبہ جات کے سلیکشن بورڈ کے لیے سینڈیکیٹ نے صادقہ صلاح الدین کو نمائندگی دی گئی ہے۔  تاہم آئی سی سی بی ایس کے لیے منگل کو ہونے والے پروفیسر کے سلیکشن بورڈ میں سہیل اکبر شاہ کو خط جاری نہیں کیا گیا۔

جامعہ کراچی کے آفیشل ذرائع اس کی وجہ یوں بیان کرتے ہیں کہ ’’چونکہ ابھی سینڈیکیٹ کی روداد سرکولیشن کے ذریعے منظور ہی نہیں ہوئی لہزا سہیل اکبر شاہ کا نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں ہوا ہے اسی سبب سے انھیں سلیکشن بورڈ میں بحیثیت رکن مدعو نہیں کیا جارہا‘‘۔

مزید پڑھیں

کراچی یونیورسٹی کی اراضی پر شروع کیا گیا پیٹرول پمپ سیل

ڈپٹی کمشنر ایسٹ نے جامعہ کراچی کی اراضی پر قائم کیے جانے والے پمپ کا این او سی منسوخ کردیا

سانحہ گل پلازہ؛ 6سوختہ لاشوں کے نمونے ڈی این اے کیلیے جامعہ کراچی لیب کو موصول 

قابل ذکر بات یہ ہے کہ جامعہ کراچی کے مختلف شعبہ جات کے سلیکشن بورڈ کئی ماہ کی تاخیر کے بعد اب 2 فروری کو ہورہے ہیں جس میں جامعہ کراچی کی انتظامیہ متعلقہ رکن سینڈیکیٹ صادقہ صلاح الدین کو مدعو کررہی ہے اور چونکہ کئی ماہ سے جامعہ کراچی کے اپنے سلیکشن بورڈ میں رکن سینڈیکیٹ کی نمائندگی نہیں تھی اس لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے اصول قوائد کا خیال رکھتے ہوئے یہ سلیکشن بورڈ منعقد نہیں کیے تاکہ کسی قسم کا قانونی یا اخلاقی اعتراض کا جواز نہ بن سکے تاہم اس کے برعکس آئی سی سی بی ایس رکن سینڈیکیٹ کے نوٹیفکیشن کا انتظار کیے بغیر ان کی عدم موجودگی میں یہ کہہ کر سلیکشن بورڈ کرارہا ہے کہ "بورڈ کا کورم پورا ہے"۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی بی ایس کے سلیکشن بورڈ میں سینڈیکیٹ کے سابقہ نمائندے کی رکنیت تو کئی ماہ قبل پوری ہوچکی تھی تاہم سلیکشن بورڈ کا اجلاس عین اس وقت انتہائی عجلت نئھ نمائندے کے نوٹیفکیشن کے اجراء سے قبل بلایا گیا ہے جس سے سوالات و شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔

ادھر اس معاملے پر ’’ایکسپریس‘‘ نے آئی سی سی بی ایس کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رضا شاہ سے رابطہ کیا تاہم وہ رابطے سے گریز کرتے رہے اور فون اور میسج کا کوئی جواب نہیں دیا۔

ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پروفیسر کی اسامی کے لئے ایک امیدوار کے ریسرچ پیپر ایک سے زائد بار اعتراض کے ساتھ retract ہوچکے ہیں پہلی بار 2022 اور ازاں بعد ایک بار پھر یہ پیپر retract ہوگئے جسے سائنس و ریسرچ کی دنیا میں ایک عیب سمجھا جاتا ہے تاہم اس کے باوجود متعلقہ امیدوار کو پروفیسر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جس پر ادارے میں شدید چہ مہ گوئیاں ہورہی ہیں لیکن انتظامیہ اس پر کام نہیں دھر رہی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: آئی سی سی بی ایس کے سلیکشن بورڈ میں جامعہ کراچی کے کے سلیکشن بورڈ رکن سینڈیکیٹ کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف