Jasarat News:
2026-06-02@22:12:19 GMT

حیدرآباد، آٹے اور گندم کی قیمتوں میں اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سندھ بھر میں آٹے اور گندم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور گیلپ پاکستان کی ملکی معیشت اور عوامی حالات کے حوالے سے تازہ رپورٹ تشویشناک ہے۔بڑھتے ہوئے بجلی اور گیس کے بل اور آٹے اور گندم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ پاکستانی گھریلو بجٹ پر سب سے بڑا دباو بن چکے ہیں۔متوسط اور غریب طبقہ یوٹیلیٹی اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنی بنیادی ضرورت یعنی خوراک پر خرچ کم کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بزرگ شہریوں کی نمائندہ تنظیم سینئر سٹیزنز کونسل پاکستان کے سربراہ سفیر امن پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی نے مختلف عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور ظالمانہ بلوں نے عوام کی زندگی عملاً اجیرن بنا دی ہے۔ بجلی کے بعد گیس کے بھاری بھرکم بلوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔ عوام نہ صرف مالی بلکہ شدید ذہنی دباو کا شکار ہیں۔ لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم اور علاج جیسے بنیادی معاملات پورے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، مگر افسوس کہ حکمران طبقہ عوام کے دکھ درد سے مکمل طور پر لاتعلق دکھائی دیتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کسی قسم کا حقیقی ریلیف عوام کو میسر نہیں۔ مہنگائی کی شرح میں اضافہ، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور یوٹیلیٹی بلوں نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب عوام فاقہ کشی پر مجبور ہوں تو حکمران قرض لینے پر جشن کیوں منا رہے ہیں؟ یہ ذہنی غلامی اور قومی پستی کی بدترین مثال ہے۔ صاحبزادہ نقشبندی نے کہا کہ بیرونی قرضوں پر انحصار دراصل آنے والی نسلوں کو گروی رکھنے کے مترادف ہے۔ حکمران وقتی کامیابی کے طور پر قرض کے حصول کو پیش کرتے ہیں، مگر اس کا اصل بوجھ غریب عوام پر ہی ڈالا جاتا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ بزرگ شہریوں کی نمائندہ تنظیم سینئر سٹیزنز کونسل پاکستان کے سربراہ سفیر امن پیر صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر بجلی اور گیس کے نرخوں میں نمایاں کمی کرے، ناجائز ٹیکسز کا خاتمہ کیا جائے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بزرگ شہری عوام کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند اور ظالمانہ معاشی پالیسیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے، کیونکہ ایک مہذب ریاست میں انسانوں کو اعداد و شمار نہیں بلکہ عزت و وقار کے ساتھ جینے کا حق دیا جاتا ہے۔دوسری جانب انہوں نے سندھ بھر میں آٹے اور گندم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بحران حکومتی غفلت، ناقص پالیسیوں اور گندم کی بروقت فراہمی میں تاخیر کا نتیجہ ہے، جس کا خمیازہ براہِ راست عام آدمی بھگت رہا ہے۔۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں فلور ملز کو سرکاری نرخ پر گندم کی فراہمی نہ ہونے کے باعث مل مالکان کھلے بازار سے مہنگی گندم خریدنے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں آٹے کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور عوام کی قوتِ خرید شدید متاثر ہو چکی ہے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا ٹے اور گندم کی قیمتوں میں کی قیمتوں میں ہوشربا انہوں نے

پڑھیں:

گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف

ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟