data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بدین (نمائندہ جسارت )بدین شہر کی اہم شاہراہوں گولارچی روڈ اور کھوسکی روڈ کا تعمیراتی کام ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہونے پر سیکڑوں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیا۔ احتجاجی مظاہرے میں سیاسی و سماجی رہنماؤں کے ہمراہ شہریوں نے ڈی سی چوک سے شاہنواز چوک تک ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی ، بدین پریس کلب پر پہنچ کر باقاعدہ احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور سندھ حکومت سمیت متعلقہ حکام کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے شہری اتحاد کے رہنما خلیفہ طارق عزیز نے کہا کہ بدین شہر میں تقریباً پانچ لاکھ افراد آباد ہیں، مگر شہر کی بنیادی شاہراہیں مکمل طور پر تباہ حالی کا شکار ہیں، جس کے باعث شہریوں کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ایس ٹی بی کے رہنما کامریڈ شاہنواز سیال نے اپنے خطاب میں کہا کہ گولارچی روڈ اور کھوسکی روڈ شہر کی مرکزی شریانیں ہیں جہاں سے روزانہ ہزاروں افراد گزرتے ہیں، مگر اس وقت ان سڑکوں پر پیدل چلنا بھی عذاب بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیکیدار ایک سال قبل ادھورا کام چھوڑ کر غائب ہو گئے ہیں، لیکن کسی محکمے یا منتخب نمائندے نے انہیں جوابدہ بنانے کی کوشش نہیں کی ۔شہری اتحاد کے رہنماؤں خلیفہ طارق میمن، محمد اقبال ابلانی اور شجاعت خواجہ نے کہا کہ سڑکوں پر پڑی مٹی اور ملبے کے باعث نہ صرف ٹریفک حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ دکانداروں کا کاروبار بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔ گرد و غبار کے سبب دکانوں میں رکھا سامان خراب ہو رہا ہے جبکہ شہری سانس اور الرجی کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ قومی عوامی تحریک کے رہنما عبداللہ چانڈیو نے کہا کہ سندھ حکومت نے سڑکوں کے ٹھیکے تو جاری کر دیے ہیں، مگر نگرانی کا کوئی مؤثر نظام نظر نہیں آتا انہوں نے الزام لگایا کہ کرپشن اور لاپروائی کے باعث ترقیاتی کام صرف فائلوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ عوام شدید اذیت کا شکار ہے۔ سماجی رہنما نعیم کپری اور سینئر صحافی عطا محمد چانڈیو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدین جیسے بڑے ضلعی ہیڈکوارٹر شہر کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کو اسپتال پہنچانے، طلبہ کو اسکول و کالج جانے اور تاجروں کو سامان کی ترسیل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مظاہرین نے ڈپٹی کمشنر بدین یاسر بھٹی اور ایم پی اے حاجی تاج محمد ملاح کو سخت انتباہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سڑکوں کا تعمیراتی کام فوری طور پر دوبارہ شروع کر کے مکمل کیا جائے اور شہریوں کو مٹی، گرد و غبار اور ٹریفک کے عذاب سے نجات دلائی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جلد اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاجی مظاہروں، دھرنوں اور ریلیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمے داری انتظامیہ اور منتخب نمائندوں پر عائد ہوگی۔احتجاج کے دوران کچھ دیر کے لیے ٹریفک معطل رہی جبکہ پولیس اہلکار صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ وہ پرامن احتجاج پر یقین رکھتے ہیں، تاہم اگر ان کے بنیادی مسائل حل نہ کیے گئے تو وہ مزید سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ کے رہنما انہوں نے

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • بھارتی روپیہ تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار
  • دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم