جاپان اور چین کے درمیان پانڈا سفارت کاری ختم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹوکیو (انٹرنیشنل ڈیسک) جاپان اور چین کے درمیان پانڈا سفارتکاری کا خاتمہ ہوگیا جس کے سبب جاپان بگڑتے تعلقات کی وجہ سے ملک کے آخری 2پانڈا چین واپس بھیج رہا ہے۔جاپان کے چڑیا گھر میں ہزاروں لوگ جمع ہوئے تاکہ ملک کے آخری پانڈا کو الوداع کہہ سکیں۔ ٹوکیو کے چڑیا گھر میں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے جہاں ہزاروں لوگ قطاروں میں کھڑے رہے، کچھ لوگ ساڑھے 3گھنٹے تک انتظار کرتے رہے تاکہ جڑواں پانڈوں شاؤ شاؤ اور لے لے کو آخری بار دیکھ سکیں۔واضح رہے کہ جاپان اور چین کے تعلقات میں تناؤ اْس وقت خطرناک حد تک بڑھ گیا جب جاپانی وزیر اعظم نے کہا کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو جاپان اس معاملے میں فوجی مداخلت کرے گا۔ 1949 ء میں اپنے قیام کے بعد سے چین خیرسگالی کے طور پر اپنے اتحادی اور بعض حریف ملکوں کو پانڈا بھیجتا رہا ہے تاہم چین اپنے تمام پانڈوں کی ملکیت برقرار رکھتا ہے حتیٰ کہ وہ بچے بھی جو بیرون ملک پیدا ہوں، میزبانی کرنے والے ممالک اس کے بدلے میں ہر جوڑے کے لیے سالانہ تقریباً 10 لاکھ ڈالر چین کو ادا کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔