غزہ امن بورڈ میں پاکستان کو شامل کرناسازش ہے‘ مقصدحماس سے ہتھیار ڈلواناہے
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260127-01-18
کراچی (رپورٹ: قاضی جاوید) غزہ امن بورڈ میں پاکستان کو شامل کرنا سازش ہے، مقصد حماس سے ہتھیار ڈلوانا ہے‘ مسلم افواج کے ذریعے فلسطینیوں کا قتل عام کرایا اور ان کو دیگر ممالک میں بسایا جائے گا‘ مقبوضہ کشمیر کی طرح فلسطین بھی پاکستان کی شہ رگ ہے‘ بورڈ میں رہ کر پاکستان فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے راہ ہموار کرسکتا ہے، پاکستان اسرائیل قریب آئیںگے۔ ’’کیا غزہ امن بورڈ میں شمولیت سے پاکستان امریکا، اسرائیل سازش کا شکار ہو رہا ہے؟‘‘ کے سوال کے جواب میںجمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ غزہ امن بورڈ میںپاکستان کی شمولیت امریکا اسرائیل منصوبے کی تکمیل ہی نہیں بلکہ بورڈ کی اولین شرط ہی یہی ہے کہ حماس سے ہتھیار ڈلوائے جائیں اور اس مقصد کے لیے اسلامی ممالک کی فوج استعمال کی جائے گی‘ سعودی عرب، ترکی، شام، اردن اور مصر کے دستخط کرنے کا مطلب ہر گزیہ نہیں ہے کہ پاکستان بھی ان ممالک کی طرح فلسطینیوں کے خلاف ظلم پر خاموش تماشائی بنا رہے اور حماس کو ہتھیار ڈالنے پر مجبو ر کر دے‘ فلسطینیوں اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر ہر پاکستانی کا دل دکھتا ہے اور کشمیر کی طرح فلسطین بھی ہماری شہ رگ ہے اور ’’فلسطین امن بورڈ‘‘ فلسطینیوں کے قتل عام اور ان کو فلسطین سے نکالنے اور ان دیگر اسلامی ملک میں بسانے کے لیے بنا یا گیا ہے۔ عالمی تجزیہ نگار سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ غزہ امن بورڈ میں دنیا کے 59 ممالک شامل ہیں لیکن اس بورڈ میں پاکستان سے فوج بھیجنے کی کوئی تجویز شامل نہیں ہے‘ 59 ممالک میں اسرائیل بھی ہے لیکن اقوام متحدہ میں بھی اسرائیل شامل ہے اور وہاں بھی پاکستان اسرائیل تسلیم کر تے ہو ئے فلسطینیوں کی ہر ممکن مدد کرتا ہے‘ 59 ممالک کے سامنے غزہ کے عوام کی حمایت اور اپنا یہ موقف پاکستان پیش کر سکتا ہے کہ “اسرائیل 1967ء کی سرحدوں پر واپس جائے اور 2 ریاستی حل کو فوری طور پر عملی شکل میں نافذ کیا جائے جس میں سے ایک فلسطین جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہوگا۔ صحافی زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان اس بات کو کہہ رہا اس معاہدے کا مقصد غزہ میں فوج بھیجنا نہیں ہے‘ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیںکر رہا لیکن دوطرفہ تعلقات میں اضافے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان اس ہے اور
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔