data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراکس /واشنگٹن /اوٹاوا /بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم گرین لینڈ میں امریکی اڈوں والے علاقوں کو ضم کر لیں گے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’نیویارک پوسٹ‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا گرین لینڈ کے ان علاقوں پر اپنی خود مختاری نافذ کر دے گا جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے شائع کی گئی ایک دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روس بدستور ناٹو کے مشرقی ارکان کے لیے ایک مستقل لیکن قابل گرفت خطرہ رہے گا‘ پینٹاگون صدر ٹرمپ کو ایسے آپشنز فراہم کرے گا جو دنیا بھر بشمول گرین لینڈ میں اسٹریٹجک مقامات تک امریکا کی فوجی اور تجارتی رسائی کو یقینی بنائیں گے۔صدر مادورو کی اہلیہ سمیت امریکی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتاری اور پھر نیویارک منتقلی کے بعد وینزویلا کی عبوری حکمراں بننے والی ڈیلسی روڈریگز کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے تیل پر لگائی جانی والی پابندیوں کے تناظر میں عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے تیل کی کمپنیوں کے کارکنوں سے خطاب کیا۔ عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے کہا کہ بس بہت ہوگیا، امریکا احکامات کی حد ہوگئی‘ ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے‘ وینزویلا کو غیر ملکی طاقتوں کی بار بار مداخلت کی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے اور اب مزید کی سکت نہیں رہی ہے‘ بیرونی دبائو اور مداخلت رک جائے تو ہم ملک میں خود نہ صرف امن و استحکام قائم کرسکتے ہیں بلکہ ہر بحران سے نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اِدھر کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے واضح کیا ہے کہ کینیڈا کا چین کے ساتھ کسی بھی قسم کا فری ٹریڈ معاہدہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر کینیڈا نے چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کیا تو امریکا کینیڈین مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عاید کر دے گا۔مارک کارنی نے کہا کہ چین کے ساتھ حالیہ سمجھوتا فری ٹریڈ ڈیل نہیں بلکہ صرف چند مخصوص شعبوں میں ٹیرف میں کمی سے متعلق ہے، جن پر حالیہ برسوں میں اضافی محصولات عاید کیے گئے تھے۔ان کے مطابق امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے درمیان موجود تجارتی معاہدے کے تحت غیر مارکیٹ معیشتوں کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے سے پہلے اطلاع دینا لازم ہے اور کینیڈا چین کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہیں کر رہا۔کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی صدر ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا نے نائن الیون کے بعد امریکی دفاع کے لیے40 ہزار فوجی افغانستان کی فرنٹ لائن پر بھیجے یہ قربانی فراموش نہیں کی جاسکتی‘ امریکی جنگ میں 158کینیڈین فوجیوں نے جان گنوائی جبکہ کئی زخمی ہوئے اس جنگ میں 30 کینیڈین اہلکاروں نے امریکی برونز اسٹار حاصل کیا یہ سب کینیڈا کی اقدار، آزادی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔علاوہ ازیں دوطرفہ اقتصادی و تجارتی مسائل حل کرنے کے لیے چین اور کینیڈا کے درمیان جو معاملات طے پا رہے ہیں، ان کا مقصد کسی تیسرے فریق کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔ یہ بات پیر کو چینی وزارتِ خارجہ نے امریکا کی اس دھمکی کے جواب میں کہی ہے کہ اگر کینیڈا بیجنگ سے تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دے تو اس پر 100 فیصد محصولات عاید کیے جائیں گے۔چینی وزارت کے ترجمان گو جیاکون نے ایک باقاعدہ پریس کانفرنس میں کہا، “چین کا مؤقف ہے کہ ممالک کو ایک دوسرے سے تعلقات کو نفع نقصان کی ذہنیت کے بجائے دوطرفہ مفاد اور تصادم کے بجائے تعاون کے ذریعے طے کرنا چاہیے۔”

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چین کے ساتھ امریکی صدر نے کہا

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان