علاقے میں اے ایس آئی کھوسہ اور ڈیلر شکیل لمبو کی سرپرستی میں گٹکا ماوا کی فروخت جاری
کھوسہ نے فی کیبن 20 ہزار روپے ہفتہ وصولی کے لیے آصف نامی پرائیویٹ بیٹر کو رکھ لیا

(رپورٹ ایم جے کے)ضلع ویسٹ تھانہ منگھوپیر’ الطاف نگر میں 150 سے زائد کیبنوں پر گٹکا ماوا فروخت، علاقے میں اے ایس آئی کھوسہ اور ڈیلر شکیل لمبو کی سرپرستی میں گٹکا ماوا کی فروخت جاری، کھوسہ نے فی کیبن 20 ہزار روپے ہفتہ وصولی کے لیے آصف نامی پرائیویٹ بیٹر کو رکھ لیا۔ ذرائع کے مطابق منگھوپیر الطاف نگر ماہی گاڈی چوکی کی حدود میں کھلے عام گٹکے ماوے کی 150 سے زائد کیبنوں پر فروخت جاری ہے تمام کیبنوں پر گٹکا ماوا فروخت کی سرپرستی اے ایس آئی کھوسہ جو 15 موبائل ڈیوٹی سرانجام دیتا ہے خود کر رہا ہے جبکہ اے ایس آئی کھوسہ نے تمام کیبنوں سے ہفتہ وار وصولی کے لیے پرائیویٹ بیٹر آصف نامی شخص کو رکھا ہوا ہے جو فی کیبن ہفتہ 20 ہزار روپے گٹکا ماوا کی مد میں وصول کرتا ہے، اسکے علاوہ ان تمام کیبنوں پر گٹکا ماوا کی سپلائی شکیل لمبو نامی ڈیلر کرتا ہے کہا جاتا ہے کہ الطاف نگر میں شکیل لمبو کا گٹکا ماوا کا نیٹ ورک بڑے پیمانے پر چلتا ہے جسکا پیسہ اوپر تک جاتا ہے، ذرائع نے مزید بتایا کہ منگھوپیر الطاف نگر میں ماوا مافیا کا راج پولیس کی سرپرستی میں قائم ہے جو کوئی بھی ان مافیا کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو یہ مافیا اور ملوث پولیس اہلکار قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے انہیں ڈراتے دھمکاتے ہیں اور انہیں جھوٹے کیس میں نامزد کر دیتے ہیں اور یہاں تک کہ جھوٹی ایف آئی آر بھی ان پر درج کروا دیتے ہیں، یہ مافیا اوپر تک پیسہ پہنچاتے ہیں جس بنا پر ان گٹکا ماوا مافیا کے سامنے انتظامیہ نے بھی گھٹنے ٹیک دیے ہیں، علاقہ مکین منگھوپیر الطاف نگر کا کہنا ہے کہ علاقے سے تمام گٹکا ماوا کیبنوں کو فلفور ختم کروایا جائے اور ملوث پولیس اہلکاروں اور گٹکا ماوا مافیا کے خلاف بھی سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کیبنوں پر گٹکا ماوا الطاف نگر میں گٹکا ماوا کی کی سرپرستی شکیل لمبو

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو بھی فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔

آج کاروبار کے پہلے نصف حصے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی کا شکار ہوگیا۔

دوپہر 12 بج کر 5 منٹ پرانڈیکس 170,475.30 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 1,264.14 پوائنٹس یعنی 0.74 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی کشیدگی سے سرمایہ کار محتاط، پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی سے دوچار

مارکیٹ میں فروخت کا رجحان آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں نمایاں رہا۔

حب پاور، اٹک ریفائنری لمیٹڈ، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک جیسے زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز مندی کے ساتھ کاروبار کرتے رہے۔

Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -1253.65 points (-0.73%) at midday trading. Index is at 170,485.8 and volume so far is 113.98 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/DtJJR8AXhS

— Investify Pakistan (@investifypk) July 24, 2026

جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید دباؤ کا شکار رہی تھی، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یعنی 1.54 فیصد کمی کے بعد 171,739.45 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی نے سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے باعث مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت دیکھنے میں آئی۔

عالمی منڈیوں میں بھی مندی

عالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعہ کو نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 100.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

گزشتہ روز اس میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور قیمت مختصر طور پر 102 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔

مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟

تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایران سے منسلک حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث سامنے آیا، جس سے عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے 60 تجارتی شراکت دار ممالک کی درآمدات پر مزید ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے نے بھی مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

مالیاتی منڈیوں میں یہ توقع بھی زور پکڑ رہی ہے کہ عالمی مرکزی بینک سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتے ہیں۔

سرمایہ کاروں کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ ہفتے ہی شرح سود میں اضافے کا امکان ایک تہائی تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ستمبر میں شرح سود بڑھانے کا امکان تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف

ادھر یورپی مرکزی بینک نے اگرچہ اپنی حالیہ میٹنگ میں شرح سود برقرار رکھی، تاہم مالیاتی منڈیوں میں ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔

ایشیائی منڈیوں میں ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں ایک فیصد، جاپان کے نکی انڈیکس میں 2.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آبنائے ہرمز آئل ٹینکر اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بحیرہ احمر پاکستان حبیب بینک حوثی سیمنٹ مانیٹری پالیسی میزان بینک نیشنل بینک

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • عاطف اسلم کا نیا البم ’صبح آئے نہ‘ کب ریلیز ہو گا؟ گلوکار نے بڑی اپڈیٹ دے دی
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف