تھانہ منگھوپیر،الطاف نگر میں 150 سے زائد کیبنوں پر گٹکا ماوا فروخت
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
علاقے میں اے ایس آئی کھوسہ اور ڈیلر شکیل لمبو کی سرپرستی میں گٹکا ماوا کی فروخت جاری
کھوسہ نے فی کیبن 20 ہزار روپے ہفتہ وصولی کے لیے آصف نامی پرائیویٹ بیٹر کو رکھ لیا
(رپورٹ ایم جے کے)ضلع ویسٹ تھانہ منگھوپیر’ الطاف نگر میں 150 سے زائد کیبنوں پر گٹکا ماوا فروخت، علاقے میں اے ایس آئی کھوسہ اور ڈیلر شکیل لمبو کی سرپرستی میں گٹکا ماوا کی فروخت جاری، کھوسہ نے فی کیبن 20 ہزار روپے ہفتہ وصولی کے لیے آصف نامی پرائیویٹ بیٹر کو رکھ لیا۔ ذرائع کے مطابق منگھوپیر الطاف نگر ماہی گاڈی چوکی کی حدود میں کھلے عام گٹکے ماوے کی 150 سے زائد کیبنوں پر فروخت جاری ہے تمام کیبنوں پر گٹکا ماوا فروخت کی سرپرستی اے ایس آئی کھوسہ جو 15 موبائل ڈیوٹی سرانجام دیتا ہے خود کر رہا ہے جبکہ اے ایس آئی کھوسہ نے تمام کیبنوں سے ہفتہ وار وصولی کے لیے پرائیویٹ بیٹر آصف نامی شخص کو رکھا ہوا ہے جو فی کیبن ہفتہ 20 ہزار روپے گٹکا ماوا کی مد میں وصول کرتا ہے، اسکے علاوہ ان تمام کیبنوں پر گٹکا ماوا کی سپلائی شکیل لمبو نامی ڈیلر کرتا ہے کہا جاتا ہے کہ الطاف نگر میں شکیل لمبو کا گٹکا ماوا کا نیٹ ورک بڑے پیمانے پر چلتا ہے جسکا پیسہ اوپر تک جاتا ہے، ذرائع نے مزید بتایا کہ منگھوپیر الطاف نگر میں ماوا مافیا کا راج پولیس کی سرپرستی میں قائم ہے جو کوئی بھی ان مافیا کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو یہ مافیا اور ملوث پولیس اہلکار قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے انہیں ڈراتے دھمکاتے ہیں اور انہیں جھوٹے کیس میں نامزد کر دیتے ہیں اور یہاں تک کہ جھوٹی ایف آئی آر بھی ان پر درج کروا دیتے ہیں، یہ مافیا اوپر تک پیسہ پہنچاتے ہیں جس بنا پر ان گٹکا ماوا مافیا کے سامنے انتظامیہ نے بھی گھٹنے ٹیک دیے ہیں، علاقہ مکین منگھوپیر الطاف نگر کا کہنا ہے کہ علاقے سے تمام گٹکا ماوا کیبنوں کو فلفور ختم کروایا جائے اور ملوث پولیس اہلکاروں اور گٹکا ماوا مافیا کے خلاف بھی سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کیبنوں پر گٹکا ماوا الطاف نگر میں گٹکا ماوا کی کی سرپرستی شکیل لمبو
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔