سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی فنڈزکی عدم ادائیگی مالی بحران کاباعث بن رہی ہے،وزیراعلیٰ
وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب کے مقابلے میں صرف 604 ارب ملے،لکھے گئے خط کا متن
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو خط ارسال کردیا۔وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی فنڈزکی عدم ادائیگی مالی بحران کاباعث بن رہی ہے، وفاقی منتقلیوں میں مسلسل تاخیر صوبائی گورننس اور سروس ڈیلیوری کو متاثرکررہی ہے، صوبائی بجٹ آئینی مالی حقوق کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا، اصل ریلیز بجٹ اہداف سے کم رہی۔سہیل آفریدی کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کیخلاف فرنٹ لائن صوبہ ہے، خیبر پختونخوا دہشت گردی کیخلاف بھاری قومی اخراجات برداشت کررہا ہے۔وزیراعلیٰ کیپی کے خط کے متن میں کہا گیا کہ صوبہ سیلاب بحالی اور عارضی بے گھری جیسے اخراجات غیرمنصفانہ برداشت کررہا ہے۔قومی ذمہ داریوں کا مالی بوجھ غیرمتناسب طور پر صوبے پر ڈالا جارہا ہے، نیٹ ہائیڈل منافع، آئل اینڈ گیس رائلٹیز اور این ایف سی منتقلیاں واجبات ہیں، معمول کی ماہانہ این ایف سی منتقلیوں کی روک تھام آئین کی خلاف ورزی ہے۔خط میں کہا گیا کہ وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب روپے کے مقابلے میں صرف 604 ارب ملے، وفاقی قابل تقسیم پول سے 54 ارب روپے کا شارٹ فال ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ مالی شارٹ فال نے کیش مینجمنٹ، بجٹ عملدرآمد اور عوامی خدمات متاثر کیں، ضم اضلاع کیلئے صوبائی مختص رقم 292 ارب اور وفاقی ریلیز صرف 56 ارب روپے ہے۔وفاقی تاخیر نے انضمام کے مقاصد کو نقصان اور قومی یکجہتی کو کمزور کیا، وفاقی واجبات کی فوری اور غیرمشروط ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہیں، تاخیر سے مالی دباؤ بڑھیگاوزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے خط میں ضم شدہ اضلاع کے فنڈز آئینی تقاضوں کے مطابق فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔خط میں کہا گیا کہ این ایف سی، نیٹ ہائیڈل منافع، تیل وگیس رائلٹیز، ضم اضلاع فنڈز فوری جاری کریں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خط میں معاملے کی سنگینی کے پیش نظر وزیراعظم کی فوری ذاتی توجہ کا مطالبہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: خط میں کہا گیا کہ کی عدم ادائیگی سہیل ا فریدی لکھے گئے خط کی جانب سے
پڑھیں:
کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
کراچی:شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔
ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔