وفاقی کابینہ کمیٹی نے بیورو کریسی اور ججوں کی دہری شہریت ختم کرنے کا عندیہ دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وفاقی کابینہ کمیٹی نے بیورو کریسی کی دہری شہریت ختم کرنے کا عندیہ دے دیا، کمیٹی ارکان نے کہا کہ ججوں کی بھی دہری شہریت ختم کی جائے، سولہ تاریخ کو اس کا فیصلہ کریں گے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں بیورو کریسی کی دہری شہریت ختم کرنے کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی، جہاں کابینہ کمیٹی کے ارکان نے دہری شہریت کے خاتمے کے حق میں ووٹ دے دیا۔
اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی ابرار احمد نے کی۔ اجلاس کے دوران کمیٹی ارکان نے مطالبہ کیا کہ ججوں کی دہری شہریت بھی ختم کی جائے۔
رکن کمیٹی نور عالم خان نے سوال اٹھایا کہ اگر اراکینِ پارلیمنٹ کو دہری شہریت رکھنے کی اجازت نہیں تو بیورو کریسی کو یہ سہولت کیوں حاصل ہے؟ انہوں نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی بہن یا بیٹی بھی دہری شہریت رکھتی ہو تو وہ اس کے ساتھ بیٹھنے کو بھی تیار نہیں۔
وزیر مملکت طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ ان کی بیٹی آسٹریلین نیشنل تھی، جس نے شہریت چھوڑ کر پارلیمنٹ میں آنے کا فیصلہ کیا۔
اس موقع پر سیکریٹری کابینہ نے واضح کیا کہ اگر پارلیمنٹ فیصلہ کرے تو حکومت قانون سازی کے لیے تیار ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ اگرچہ 21 ممالک میں دہری شہریت کی اجازت ہے تاہم اس کے باوجود بعض افراد دیگر ممالک کی شہریت بھی حاصل کرلیتے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس اہم معاملے پر 16 تاریخ کو حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
اجلاس میں غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کے معاملے پر بھی بحث ہوئی۔ رکن کمیٹی آغا رفیع اللہ نے سوال اٹھایا کہ سمری کس نے کابینہ کے سامنے پیش کی؟ سیکریٹری کابینہ کامران علی افضل نے وضاحت کی کہ وزارت خارجہ کی سمری پر کابینہ نے متفقہ طور پر منظوری دی تھی اور وزیراعظم کی بات بالکل درست ہے۔
اجلاس میں وفاقی سیکریٹریز کو 90 ہزار روپے سفری الاؤنس دینے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔ نور عالم خان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ تمام پابندیاں صرف اراکین پارلیمنٹ پر ہیں جبکہ افسران کو ہر سہولت حاصل ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پالیسی کے مطابق سرکاری گاڑی لینے والے افسران کو الاؤنس نہیں ملنا چاہیے، مگر عملاً افسران دونوں سہولتیں لے رہے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے سیکریٹری کابینہ کو ہدایت کی کہ اس پالیسی پر موثر چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے تاہم سیکریٹری کابینہ ڈویژن نے افسران سے عمل درآمد کی تصدیق (سرٹیفکیٹ) لینے کی شرط ختم کرنے کی حمایت نہیں کی۔
اجلاس میں اٹھائے گئے نکات کو حکومتی پالیسی اور قانون سازی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا گیا۔
وفاقی کابینہ کی سیکریٹریٹ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں رکن کمیٹی نورعالم خان نے کہا کہ میری بہن بیٹی اگر دہری شہریت رکھے تو میں اس کے ساتھ بھی نہ بیٹھوں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کہا کہ 21 ممالک میں دہری شہریت کی اجازت ہے مگر اس کے باوجود دیگر ممالک میں بھی شہریت لیتے ہیں۔ سیکریٹری کابینہ نے کہا کہ اگر آپ کو فیصلہ کرنا ہے تو کریں ہم قانون بنا دیں گے۔
نور عالم خان نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ دہری شہریت نہیں رکھ سکتی تو بیورو کریسی کیوں رکھتی ہے؟
رکن کمیٹی طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ میری بیٹی آسٹریلین نیشنل ہے وہ شہریت چھوڑ کر پارلیمنٹ میں آئی۔
کابینہ کمیٹی کے ارکان نے بیورو کریسی کی دہری شہریت ختم کرنے کے لیے ووٹ دے دیا۔ کمیٹی ارکان نے کہا کہ ججوں کی بھی دہری شہریت ختم کی جائے، سولہ تاریخ کو اس کا فیصلہ کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی دہری شہریت ختم کرنے سیکریٹری کابینہ بیورو کریسی کی کابینہ کمیٹی اجلاس میں رکن کمیٹی نے کہا کہ ارکان نے کمیٹی نے ججوں کی دے دیا کہ اگر
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔