ایمان مزاری، ہادی چٹھہ کی سزا کیخلاف وکلا ء سڑکوں پرآگئے
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا 3 روزہ عدالتوں کا بائیکاٹ، احاطہ عدالتکے اندر ریلی نکالی
پہلے جج سڑک پر نکلے اب وکیل سڑکوں پر ہیں، ریاست گردی چل رہی ہے، بابر اعوان
سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا سنانے کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے عدالتوں کا 3 روزہ بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔اسلام آباد بار کونسل، ہائیکورٹ بار، ڈسٹرکٹ بار نے آج سے تین روزہ ہڑتال کی کال دے رکھی ہے اور وکلاء صرف ارجنٹ کیسوں میں پیش ہو رہے ہیں۔اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی جانب عدالتوں میں پولیس کے داخلے پر پابندی بھی لگا دی گئی ہے جس کے بعد وکلاء نے کینٹین پر بیٹھے پولیس اہلکاروں کو باہر نکال دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ اور اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، پولیس کی بھاری نفری اور بکتر بند گاڑی بھی عدالت کے باہر موجود ہے۔وکلاء کی جانب سے سیشن جج ایسٹ کی عدالت کے باہر احتجاج کیا گیا، صدر بار ایسوسی ایشن نعیم گجر کی قیادت میں وکلاء سیشن عدالت کے باہر پہنچے، وکلاء کی جانب سے احاطہ کچہری کے اندر ریلی نکالی گئی۔صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار واجد گیلانی ڈاکٹر، بابر اعوان سمیت دیگر وکلاء احتجاج میں شریک ہوئے جنہوں نے وکلاء کو انصاف دو کے بینرز اٹھا رکھے تھے۔اس موقع پر ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ پہلے جج سڑک پر نکلے اب وکیل سڑکوں پر نکلے ہیں، وکلاء کیخلاف ریاست گردی چل رہی ہے، پولیس گردی شروع ہو چکی ہے جو سوسائٹی کیلئے نقصان دہ ہے، وکلا نے ڈسٹرکٹ
جوڈیشل کمپلیکس پہنچ کر احتجاج ختم کر دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ ہائیکورٹ بار کی جانب
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔