اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد
لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا دی گئی وہ ناانصافی ہے،بیرسٹر گوہر ودیگر رہنمائوں کی میڈیا سے گفتگو
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور اپوزیشن لیڈر رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے کہ ہے کہ ایمان مزاری اور شوہر کی سزا کے بعد ہوسکتا ہے ہم بھی جیل بھرو تحریک شروع کردیں۔تفصیلات کے مطابق تحریک تحفظ آئین کی قیادت نے مزاری ہاؤس میں ایمان مزاری کی والدہ اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ ملاقات کے بعد محمود خان اچکزئی، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کی اور ایمان مزاری کو دی جانے والی سزا کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہو سکتا ہے ہم جیل بھرو تحریک کا اعلان بھی کردیں، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کتنے لوگوں کو جیل میں ڈالتے ہیں۔مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ آج پاکستان پر آمریت مسلط کر دی گئی ہے، اگر کسی کے ذہن میں یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت ہے تو وہ اس کو درست کر لے، جس طرح کے فیصلے آ رہے ہیں یہ ملک کو نارتھ کوریا یا مصر بنانے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں کوئی حق کے لئے آواز نہ اٹھائے، اگر کوئی اٹھاتا ہے تو اس کو خاموش کر دیا جاتا ہے۔مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ 8 فروری کو ہم اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کروائیں گے، لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے بھی اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں، ہم ان تاریکیوں کو ختم کریں گے، اس عدلیہ میں ایسے لوگ جاگیں جو باغیرت ہوں۔چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم یہاں ڈاکٹر شیریں مزاری سے اظہار یکجہتی کے لئے آئے ہیں، پاکستان میں لاقانونیت عروج پر ہے اور ادارے کمزور ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس طرح سے ایمان اور ہادی کا ٹرائل ہوا ہم نے اُس پر تشویش کا اظہار کیا اور جس انداز سے سزا دی گئی وہ بھی ناانصافی ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم ہمیشہ سے پیکا کے خلاف تھے اور رہیں گے، ہم سزا کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، ان کی والدہ نے بتایا کے کہ ان کا ابھی تک کوئی رابطہ نہیں ہوا، ان کی ایمان مزاری سے ملاقات نہیں ہو رہی اور نہ ہی معلوم ہے کب ملاقات ہوگی۔اُن کا کہنا تھا کہ جہاں لوگوں کو انصاف نہیں ملتا وہاں لوگ قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں، ہم امید کرتے ہیں چیف جسٹس آفس پاکستان اس پر کوئی کارروائی کریں گے اور انشااللہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے گا۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ میں پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دی جانے والی سزا ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں، دونوں کی سزا ختم کر کے انہیں رہا کیا جائے اور فیٔرٹرائل کا موقع دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی بیرسٹر گوہر نے ایمان مزاری نواز کھوکھر نے کہا کہ کے لئے ا ملک میں
پڑھیں:
آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک عرب ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بیک وقت بندش عالمی معیشت کو تباہ کر دے گی۔ ان دونوں آبنائے کا متبادل بنانے میں دہائیاں لگیں گی۔ بین الاقوامی معیشت کے معروف عرب ماہر ڈاکٹر کامل وزنة نے ایران میں جاری جنگ اور اہم سمندری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب کی ممکنہ بندش کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو دنیا ایک ایسے حقیقی خطرے سے دوچار ہو جائے گی جو ہر فرد کی زندگی کو متاثر کرے گا اور عالمی منڈیوں کو مہنگائی کی ایک غیر معمولی لہر کی طرف دھکیل دے گا۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے عربی ویب سائٹ عربی 21 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باب المندب کا فوجی کشیدگی کے دوسرے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آنا عالمی منڈیوں میں استحکام کی بحالی اور معاشی بہتری کے عمل کو روک چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں بتدریج بڑھتے ہوئے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اور اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ انتہائی سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشیا اور توانائی کی ترسیل کے سمندری راستوں کی بندش دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافے اور تمام ممالک کے معاشی مسائل میں شدت کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب مسئلہ صرف ایک آبنائے کی بندش تک محدود نہیں رہا، بلکہ پوری کی پوری ریاستیں عالمی تجارت کے بہاؤ اور بنیادی وسائل تک رسائی سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے باعث یہ وسائل عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے خطے اور خصوصاً سعودی عرب پر اس بحران کے اثرات کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے خطے کے ممالک کی برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے گا، اگرچہ سعودی عرب کی معیشت نسبتاً مضبوط اور زیادہ لچکدار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بحران نے پورے خطے میں معاشی سست روی پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات جائیداد کی مارکیٹ، روزگار، سرمایہ کاری کے مواقع اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی ترسیلاتِ زر پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے علاقے یا اپنے ملک میں جاری جنگ سے فائدہ نہیں اٹھاتا، اسی لیے بحران کے خاتمے کے لیے جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ اہم سمندری گزرگاہیں بند رہیں تو عالمی معیشت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی فوری یا تیار متبادل موجود نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے 20 سے 25 فیصد بنیادی وسائل اور توانائی کی ترسیل آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے ہوتی ہے، اور عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی متعدد بار اس صورتحال کے ممکنہ نتائج سے خبردار کر چکی ہیں۔
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منصوبوں کی کامیابی سیاسی استحکام سے مشروط ہوتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے روس اور جرمنی کے درمیان گیس پائپ لائن کی مثال دی، جو مکمل ہونے کے باوجود یوکرین جنگ کے بعد تخریب کاری کا نشانہ بنی اور دھماکے سے تباہ کر دی گئی۔