پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں 223 ارب روپے کے اضافے کی خبر گمراہ کن قرار
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
پاور ڈویژن نے رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران گردشی قرضے میں 223 ارب روپے کے اضافے کی خبر کو گمراہ کن قرار دے دیا۔
ترجمان پاور ڈویژن نے گردشی قرض کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 223 ارب روپے کے گردشی قرض میں اضافے کی خبر گمراہ کن ہے۔
ترجمان کے مطابق بینکوں کے ساتھ معاہدے کے باوجود جولائی تا نومبر 2025 سرکلر ڈیٹ کا موازنہ غلط ہے جبکہ نومبر 2025 کا جون 2025 سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا، درست موازنہ گزشتہ جولائی تا نومبر کی مدت سے ہونا چاہیے تھا۔
پاور ڈویژن کے ترجمان نے وضاحت دی کہ بینکوں سے معاہدے کا سرکلر ڈیٹ فلو سے کوئی تعلق نہیں، بینکوں سے معاہدہ مہنگے پی ایل پی ایل قرضے کی ری فنانسنگ کے لیے تھا۔ جولائی تا نومبر 2024 میں اضافہ موسمی عوامل کی وجہ سے ہے۔
رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ میں 223 ارب روپے کا اضافہ
بجلی کی کراس سبسڈی میں 123 ارب روپے کی کمی لائی گئی ہے، پاور ڈویژن
ترجمان کے مطابق دسمبر 2025 میں سرکلر ڈیٹ فلو میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ جولائی تا دسمبر گردشی قرض میں نیٹ اضافہ 80 ارب سے کم رہا جبکہ گردشی قرض میں کمی ڈسکوز کی کارکردگی بہتر بنانے اور لیٹ پیمنٹس کے خاتمے سے ہوئی۔
مالی سال 2024-25 میں سرکلر ڈیٹ کم ہو کر جون 2025 تک 1614 ارب روپے پر آ گیا۔ ڈسکوز کی کارکردگی بہتر ہوئی اور ایک سال میں 193 ارب روپے کے نقصانات کم ہوئے، جولائی تا دسمبر 2025 میں مزید 49 ارب روپے کے نقصان کم ہوئے۔
ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک سرکلر ڈیٹ مکمل کنٹرول میں آ جائے گا، 1225 ارب روپے سرکلر ڈیٹ سیٹلمنٹ پلان 6 سال میں مکمل ہوگا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ارب روپے کے پاور ڈویژن سرکلر ڈیٹ مالی سال
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔