اسلام آباد:

پاور ڈویژن نے رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران گردشی قرضے میں 223 ارب روپے کے اضافے کی خبر کو گمراہ کن قرار دے دیا۔

ترجمان پاور ڈویژن نے گردشی قرض کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 223 ارب روپے کے گردشی قرض میں اضافے کی خبر گمراہ کن ہے۔

ترجمان کے مطابق بینکوں کے ساتھ معاہدے کے باوجود جولائی تا نومبر 2025 سرکلر ڈیٹ کا موازنہ غلط ہے جبکہ نومبر 2025 کا جون 2025 سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا، درست موازنہ گزشتہ جولائی تا نومبر کی مدت سے ہونا چاہیے تھا۔

پاور ڈویژن کے ترجمان نے وضاحت دی کہ بینکوں سے معاہدے کا سرکلر ڈیٹ فلو سے کوئی تعلق نہیں، بینکوں سے معاہدہ مہنگے پی ایل پی ایل قرضے کی ری فنانسنگ کے لیے تھا۔ جولائی تا نومبر 2024 میں اضافہ موسمی عوامل کی وجہ سے ہے۔



رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ میں 223 ارب روپے کا اضافہ



بجلی کی کراس سبسڈی میں 123 ارب روپے کی کمی لائی گئی ہے، پاور ڈویژن

ترجمان کے مطابق دسمبر 2025 میں سرکلر ڈیٹ فلو میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ جولائی تا دسمبر گردشی قرض میں نیٹ اضافہ 80 ارب سے کم رہا جبکہ گردشی قرض میں کمی ڈسکوز کی کارکردگی بہتر بنانے اور لیٹ پیمنٹس کے خاتمے سے ہوئی۔

مالی سال 2024-25 میں سرکلر ڈیٹ کم ہو کر جون 2025 تک 1614 ارب روپے پر آ گیا۔ ڈسکوز کی کارکردگی بہتر ہوئی اور ایک سال میں 193 ارب روپے کے نقصانات کم ہوئے، جولائی تا دسمبر 2025 میں مزید 49 ارب روپے کے نقصان کم ہوئے۔

ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک سرکلر ڈیٹ مکمل کنٹرول میں آ جائے گا، 1225 ارب روپے سرکلر ڈیٹ سیٹلمنٹ پلان 6 سال میں مکمل ہوگا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ارب روپے کے پاور ڈویژن سرکلر ڈیٹ مالی سال

پڑھیں:

ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان

اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی