امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن مشرق وسطیٰ کی سمندری حدود میں داخل ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
امریکی میڈیا کے مطابق اس کیریئر اسٹرائیک گروپ میں لڑاکا طیارے، میزائل کروزر اور جدید ڈسٹرائرز شامل ہیں، جو کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جہاں امریکا کا جدید طیارہ بردار بحری بیڑہ ابراہم لنکن خطے کی سمندری حدود میں داخل ہوچکا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس کیریئر اسٹرائیک گروپ میں لڑاکا طیارے، میزائل کروزر اور جدید ڈسٹرائرز شامل ہیں، جو کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم امریکی اتحادی ممالک نے فی الحال فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر زور دیا ہے۔ اس کے باوجود امریکی فوج نے خطے میں اپنی طاقت بڑھانے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق امریکی فضائیہ مشرق وسطیٰ میں بڑی فوجی مشقیں کرنے جا رہی ہے، جن سے پہلے ہی کشیدہ ماحول میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے جمعرات کے روز بحری بیڑے کو ایران کی سمت روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دوسری جانب ایران نے امریکی دباؤ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے، امریکی جنگی جہازوں کی آمد ایرانی قوم کے دفاع کو متاثر نہیں کر سکتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔