سامان بیچنے آنیوالی خواتین نے خاتون کو بے ہوشی کا انجیکشن لگاکر گھر کا صفایا کردیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
کراچی کے علاقے کورنگی ساڑھے 5 جی ایریا میں گھر میں ڈاکوؤں نے خاتون کو بے ہوشی کا انجیکشن لگاکر گھر کا صفایا کردیا۔ واردات دو خواتین سمیت 3 ڈاکوؤں نے کی، واقعہ کا مقدمہ زمان ٹاؤن تھانے میں متاثرہ خاتون کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔ مدعیہ خاتون کے مطابق دروازہ کھولا تو ایک خاتون سامان فروخت کرنے آئی تھی، خاتون کو اندر بلایا تو اس نے اپنی بیٹی کو فون کرکے مزید سامان لانے کا کہا۔خاتون کی بیٹی کے ساتھ ایک لڑکا بھی زبردستی اندر آگیا۔متاثرہ خاتون نے بتایا کہ لڑکے نے مجھے اسلحہ دکھاکر بے ہوشی کا انجیکشن لگا دیا، میں نے مزاحمت کی تو لڑکے نے میرا سر دیوار سے مار دیا جس سے میں بے ہوش ہوگئی۔خاتون کے مطابق ملزمان نے تجوری کھول کر 7 لاکھ روپے نکال لیے، ملزمان 15گرام کے دو سونے کے سیٹ، 4 انگوٹھیاں، بریسلٹ اور موبائل فون بھی ساتھ لے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔